
واشنگٹن ،07اپریل(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی خفیہ اور اہم فوجی کارروائی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر جا کر ایک پائلٹ کو بحفاظت واپس لانے کا غیر معمولی آپریشن کامیابی سے مکمل کیا، جسے انہوں نے تاریخ کے نمایاں ترین مشنز میں سے ایک قرار دیا۔وائٹ ہاو¿س میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس کارروائی میں تقریباً 200 امریکی فوجیوں نے حصہ لیا جبکہ جدید جنگی طیاروں اور دیگر فضائی وسائل کو بھی استعمال میں لایا گیا، اس مشن کا حکم انہوں نے خود جاری کیا تھا اور پائلٹ کی تلاش کے لیے امریکی طیارے ایرانی حدود میں داخل ہوئے، جہاں انہیں انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ اس پیچیدہ آپریشن کے دوران پیش آنے والی تکنیکی مشکلات کو بھی فوری طور پر حل کیا گیا اور نقصان اٹھانے والے طیاروں کو محض 10 منٹ میں دوبارہ قابلِ پرواز بنا دیا گیا، ریسکیو مشن میں شریک کسی بھی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جو اس کارروائی کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس حوالے سے دی جانے والی تجاویز نہایت اہمیت کی حامل ہیں، تاہم انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایک ہی رات میں ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایک صحافی نے پوچھا کہ آیا وہ توقع کرتے ہیں کہ جے ڈی وینس پاکستان میں ثالثوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا: ’جی ہاں، وہ بات کر رہے ہیں، اور ہمارے پاس سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی بات کر رہے ہیں۔ وہ سب اکھٹے ہیں اور بات چیت کر رہے ہیں۔‘صحافی کے پوچھنے پر کہ کیا جے ڈی وینس کسی روبرو ملاقات کا حصہ بن سکتے ہیں، ٹرمپ نے کہا: ’یہ ممکن ہے۔‘ٹرمپ نے ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کی تفصیل کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے ایران میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ 37 دنوں کے دوران امریکہ کی مسلح افواج نے ایران کے اوپر 10 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کیں جو ایک غیر معمولی بات ہے۔‘انہوں نے اس مشن میں حصہ لینے والے تمام فوجیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید امریکی طیاروں نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور مشن کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے ایران میں گرایا جانے والا امریکی ایف-15 طیارہ ’اس پورے آپریشن کے دوران دشمن کی جانب سے مار گرایا جانے والا پہلا انسانی عملے والا طیارہ تھا۔‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan