
نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ عالمی سطح پر بہت سے دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان کی معیشت پر دباو¿ ڈال رہی ہے۔ اس دباو¿ نے مینوفیکچرنگ شعبے کے ساتھ ساتھ سپلائی اور سروس سیکٹر کو بھی کافی متاثر کیا ہے۔ مرکزی حکومت بحران سے نمٹنے کے لیے جلد ہی ایک بڑے راحت پیکیج کا اعلان کر سکتی ہے۔
اسپیشل کریڈٹ گارنٹی اسکیم نام کے ڈھائی لاکھ کروڑ روپے کے اس ریلیف پیکیج کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ بتایا جاہا ہے کہ مسودے کو جلد ہی کابینہ کی منظوری مل سکتی ہے۔ یہ امدادی پیکیج 2020 میں کووڈ-19 بحران کے دوران متعارف کرائی گئی ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ تاہم، اس امدادی پیکیج کا دائرہ کار اور بجٹ ای سی جی ایل ایس کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ،اس کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے ذریعے مرکزی حکومت مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے متاثرہ تمام شعبوں کو مالی مدد فراہم کرے گی۔ خاص طور پر،جن شعبوں کو جنگ کی وجہ سے سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،انہیں اس راحت پیکیج کے ذریعے مالی امداد فراہم کرکے لیکویڈیٹی کی کمی سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس سلسلے میں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، راحت پیکیج کے تحت مرکزی حکومت نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی (این سی جی ٹی سی ) کے ذریعے کمپنیوں کو دیئے گئے قرضوں پر 90 فیصد کریڈٹ گارنٹی فراہم کرے گی۔ اس کریڈٹ گارنٹی کا مطلب ہے کہ اگر قرض لینے والی کمپنی قسطوں کی ادائیگی میں ناکام رہتی ہے تو مرکزی حکومت بینک کے 90 فیصد نقصان کو پورا کرے گی۔ یہ حکومتی گارنٹی بینکوں کو ضرورت مند کمپنیوں کو بغیر کسی خوف کے قرض دینے کی اجازت دے گی۔
کووڈ -19 وبائی امراض کے دوران شروع کی گئی ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم کی طرح، اس امدادی پیکیج میں قرض لینے والی کمپنیوں کو کوئی اضافی سیکورٹی یا ضمانت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس اسکیم کے لیے چار سال کی مدت تجویز کی گئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق، قرض لینے والی کمپنیوں کو قرض کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک سال کی رعایتی مدت دی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس مدت کے دوران، کمپنیوں کو باقاعدگی سے سود کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہوگی۔
2020 میں شروع کی گئی ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں یعنی ایم ایس ایم ای (بہت چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں)شعبے کی کمپنیوں کو مدد فراہم کی گئی تھی، تاہم اس بار حکومت اس امدادی پیکیج کو صرف ایم ایس ایم ای تک محدود نہیں رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس بار چھوٹی صنعتوں سمیت مغربی ایشیا کے بحران سے متاثرہ ہر شعبے کو راحت فراہم کی جائے گی۔
تاہم، امدادی پیکج کا ایک اہم حصہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ انہیں لیکویڈیٹی کی کمی سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ، یہ امدادی پیکج ان کمپنیوں کو بھی مدد فراہم کرے گا جو مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کی وجہ سے خام مال کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور جن کو اپنے سامان کی درآمد اور برآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد