
کاٹھمنڈو، 7 اپریل (ہ س)۔ نیپال کی حکومت نے سرکاری ملازمین اور اہلکاروں کے لیے ایندھن کے فوائد میں کمی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملکی معیشت کو ایندھن کے بڑھتے ہوئے بحران سے بچانے کے لیے کیا گیا۔ حکومت نے پیر کو ایندھن سے متعلق دفعات میں ترامیم کی منظوری دی۔وزیر خزانہ ڈاکٹر سوارنیم واگلے کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے، سپلائی میں کمی اور رواں مالی سال میں ہدف کے مطابق محصولات جمع کرنے میں ناکامی کے باعث یہ قدم عوامی اخراجات میں کفایت شعاری کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی طریقہ کار اور مالیاتی ذمہ داری ایکٹ کے سیکشن 20 اور 24 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، وزارت نے 'طریقہ وارانہ رہنما خطوط' کے پوائنٹ نمبر 49 میں ایندھن سے متعلق دفعات میں ترمیم کی ہے، جس کی پیر کو منظوری دی گئی ہے۔
نظرثانی شدہ انتظامات کے مطابق حکومت کے سیکرٹریز اور اسپیشل کیٹیگری کے افسران جو پہلے 125 لیٹر ایندھن حاصل کرتے تھے اب صرف 70 لیٹر ملیں گے۔ اسی طرح جوائنٹ سیکرٹریز کی سطح کے افسران جو پہلے 100 لیٹر ایندھن حاصل کرتے تھے اب 50 لیٹر فیول ملے گا۔ تاہم، وزراءاور آئینی افسران کو مروجہ قانون کے مطابق ایندھن کی سہولت ملتی رہے گی۔ اس کے علاوہ مرکزی سطح کے دفاتر کی گاڑیوں کو فراہم کی جانے والی ایندھن کی سہولت بھی کم کر دی گئی ہے۔ پہلے 30 ملازمین والے دفاتر کو 75 لیٹر پٹرول اور 100 لیٹر ڈیزل ملتا تھا جو کہ اب کم کر کے 35 لیٹر پٹرول اور 50 لیٹر ڈیزل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح اضافی 50 ملازمین والے دفاتر کو اب صرف 35 لیٹر پٹرول اور 50 لیٹر ڈیزل ملے گا جبکہ پہلے انہیں 75 لیٹر پٹرول اور 100 لیٹر ڈیزل دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ہر اضافی 100 ملازمین کے لیے 35 لیٹر پیٹرول اور 50 لیٹر ڈیزل دستیاب کرایا جائے گا، جب کہ پہلے یہی نمبر 75 لیٹر پیٹرول اور 100 لیٹر ڈیزل حاصل کرتا تھا۔ اس کے علاوہ دو پہیہ گاڑیوں کے لیے ماہانہ ایندھن کی سہولت بھی کم کر دی گئی ہے۔ پہلے جہاں ماہانہ 12 لیٹر پٹرول ملتا تھا اب 8 لیٹر کر دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan