
تہران،07اپریل(ہ س)۔ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران متحد رہے گا اور ٹارگٹ کلنگ اثر انداز نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹارگٹ کلنگ سے مسلح افواج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اپنے دعوے کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں پے در پے کئی شکستوں کا سامنا کرنے کے بعد دوبارہ انٹیلی جنس کمیونٹی کے ایک رہنما کو قتل کرنے کا سہارا لیا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے اپنے سربراہ مجید خادمی کے قتل کا بدلہ لینے کا عہد کیا جس کے بارے میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اسے امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران تہران میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ ویب سائٹ ” سپاہ نیوز “ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں انٹیلی جنس تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک بڑے انتقامی وار کا انتظار کرے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی اس آپریشن کے منصوبہ سازوں اور اسے انجام دینے والوں تک پہنچے گی۔ پاسداران انقلاب نے پیر کے روز اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ مجید خادمی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس چیف میجر جنرل خادمی صبح سویرے ایک امریکی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے خادمی کے خاتمے کی تصدیق کی اور ایرانی رہنماو¿ں کا پیچھا جاری رکھنے اور انہیں ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل ایرانی نظام کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔
یاد رہے 28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیل نے تہران پر چھاپوں کے دوران درجنوں ایرانی رہنماو¿ں کو قتل کردیا ہے جن میں سب سے نمایاں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ان کے مشیر علی شمخانی اور پاسداران انقلاب کے سپریم کمانڈر محمد پاکپور شامل ہیں۔ ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی بھی 28 فروری کو ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔بعد ازاں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی، وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب، بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی اور پاسداران انقلاب کی بحریہ کے انٹیلی جنس چیف بہنام رضائی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے سربراہ کے مشیر جمشید اسحاقی بھی مارے گئے ہیں۔
نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صورتحال پر اب بھی ابہام برقرار ہے باوجود اس کے کہ ایران کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور ان کی عدم موجودگی جنگی صورتحال اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر ہے۔ خامنہ ای کے بیٹے ملک کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے بلکہ صرف بیانات نشر کیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan