
واشنگٹن،07مارچ(ہ س)۔مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای انتہائی تشویشناک طبی حالت سے گزر رہے ہیں جو انہیں ملکی امور چلانے سے روک رہی ہے۔ برطانوی اخبار The Times کے مطابق یہ معلومات ایک سفارتی انٹیلی جنس میمورنڈم سے لی گئی ہیں جس کا اس نے مشاہدہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای جنہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا، اس وقت بے ہوش ہیں اور سخت سکیورٹی و شدید سرکاری رازداری کے درمیان مذہبی شہر قم میں زیرِ علاج ہیں۔رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ معلومات امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس جائزوں پر مبنی ہیں، جن کے مطابق نئے سپریم لیڈر کی حالت 28 فروری 2026 کو ہونے والے اس امریکی-اسرائیلی فضائی حملے کا نتیجہ ہے جس میں ان کے والد اور خاندان کے متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اخبار کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے کے بعد سے عوامی منظر عام پر نہیں آئے اور نہ ان کا کوئی براہ راست خطاب سامنے آیا ہے، جبکہ میڈیا پر ان کی موجودگی صرف ایسی وڈیوز تک محدود رہی ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تحریری بیانات ہیں جو ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن پر پڑھ کر سنائے گئے۔رپورٹ کا ماننا ہے کہ فیصلے کرنے کی عملی صلاحیت کی عدم موجودگی نے سفارتی حلقوں میں تہران میں حقیقی اقتدار کی نوعیت کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور یہ امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ موجودہ مرحلے میں عملی طور پر ایرانی پاسداران انقلاب ہی ریاست کا انتظام چلا رہی ہے۔اخبار نے اس پیش رفت کو جاری علاقائی جنگ اور قم میں علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریوں سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام نئے سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق معلومات کے اخراج کو روک کر سیاسی بحران کے اثرات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan