تھانے صفائی مہم صرف دعوؤں تک محدود، کوپری میں کچرے کے ڈھیر پر ماہر ماحولیات کی تنقید
ممبئی، 7 اپریل (ہ س)۔ تھانے میونسپل کارپوریشن کی صفائی مہم کے دعوؤں کے برخلاف کوپری علاقے میں کچرے کے ڈھیر، بدبو اور بنیادی سہولیات کی کمی نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے، جس پر ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرشانت سنکر نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سخت سوالات
Civic Thane Cleanliness


ممبئی، 7 اپریل (ہ س)۔ تھانے میونسپل کارپوریشن کی صفائی مہم کے دعوؤں کے برخلاف کوپری علاقے میں کچرے کے ڈھیر، بدبو اور بنیادی سہولیات کی کمی نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے، جس پر ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرشانت سنکر نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈاکٹر پرشانت سنکر کے مطابق صفائی مہم کے بڑے بڑے دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں، جبکہ کوپری کے رہائشی روزانہ سڑکوں پر جمع کچرے، نالیوں کی بدبو اور ڈسٹ بن کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف سوچھتا سروے 2026 کے اشتہارات میں شہر کو صاف ستھرا دکھایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف کوپری کے شہری کچرے کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس سے صبح کی سیر کرنے والے افراد اور ملازمین سبھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ صفائی کے نام پر صرف فوٹو سیشن کیے جاتے ہیں اور اگلے ہی دن ذمہ دار افسران اور عوامی نمائندے علاقے کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گیلے اور خشک کچرے کی علیحدگی کے لیے نصب کیے گئے ڈسٹ بن کئی مقامات سے غائب ہیں، جس کے باعث شہریوں کے پاس کچرا پھینکنے کا مناسب انتظام نہیں ہے اور نتیجتاً سڑکوں پر کچرا جمع ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر سنکر نے خبردار کیا کہ سڑکوں پر جمع کچرے سے میٹھین گیس پیدا ہوتی ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی کو بڑھاتی ہے بلکہ مختلف بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہے، مگر اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا صاف تھانے کے وعدے محض کاغذی رہ گئے ہیں اور کب انتظامیہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی۔ سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق کوپری کی صورتحال نے صفائی مہم کے دعوؤں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے اور اب سب کی نظریں انتظامیہ کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande