چین روس کے ساتھ تعاون اور مشرق وسطیٰ کی جنگ بندی کرانے کیلئے تیار
بیجنگ،06اپریل(ہ س)۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اعلان کیا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے کوششیں کرنے
چین روس کے ساتھ تعاون اور مشرق وسطیٰ کی جنگ بندی کرانے کیلئے تیار


بیجنگ،06اپریل(ہ س)۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اعلان کیا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے کوششیں کرنے کو تیار ہے۔وانگ ای نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل سے نمٹنے کا بنیادی طریقہ جلد از جلد جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نے ہمیشہ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے بحرانی مسائل کے سیاسی حل کی وکالت کی ہے۔ یہ رابطہ آنے والے دنوں میں سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بحرین کی قرارداد کے مسودے پر متوقع ووٹنگ سے قبل ہوا ہے۔یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب سلطنت عمان نے اتوار کو دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹریز کی سطح پر ایران کے ساتھ ایک اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا جس میں دونوں جانب کے ماہرین نے شرکت کی۔ عمان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ اس اجلاس کا مقصد خطے کی موجودہ صورتحال کے دوران آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ اختیارات کا جائزہ لینا ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی واضح کیا کہ فریقین کے ماہرین نے اس حوالے سے متعدد تجاویز اور ویڑن پیش کیے ہیں۔گزشتہ گھنٹوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباو بڑھا دیا ہے کہ وہ یا تو معاہدہ کرے اور اہم آبنائے ہرمز کو کھولے یا اپنی توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سامنا کرے۔ ٹرمپ نے تہران کو متنبہ کیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے کی مہلت ختم ہونے والی ہے۔انہوں نے ہفتے کے روز اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ کیا آپ کو یاد ہے جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دس دن دیے تھے؟ وقت ختم ہو رہا ہے ، ان پر جہنم ٹوٹنے میں صرف 48 گھنٹے باقی ہیں! یاد رہے اس آخری مہلت میں اتوار کو 6 اپریل آنے سے پہلے صرف 24 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ امریکی صدر کی جانب سے مقرر کردہ تاریخ تھی۔ ان پیش رفتوں کے درمیان پاکستان امریکی اور ایرانی فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک اسلام آباد کی کوششوں اور مدد کی قدر کرتا ہے۔واضح رہے ٹرمپ کی جہنم کی دھمکی اور ایران کے اسی طرح کے جواب کے درمیان یہ جنگ اپنے چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے کسی بھی بات چیت کے لیے جنگ کے حتمی اور مستقل خاتمے کی شرط رکھی ہے۔امریکی جانب سے اس سے قبل جنگ ختم کرنے کے لیے 15 نکاتی منصوبہ یا تجویز پیش کی گئی تھی جس میں جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری، افزودہ یورینیم کی حوالگی اور ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا شامل تھا۔ دوسری جانب ایرانی فریق نے تنازع کے خاتمے کے لیے 5 شرائط پیش کی ہیں جن میں ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ اور اس حوالے سے ضمانتوں کے ساتھ جنگ کا حتمی خاتمہ شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande