
ماسکو، 6 اپریل (ہ س) امریکی ماہر اقتصادیات اور کولمبیا یونیورسٹی میں سنٹر فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر جیفری ساس نے کہا ہے کہ صرف تین عالمی لیڈروں یعنی ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی، چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن میں ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کی صلاحیت ہے۔ روس کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے سے نشر ہونے والے پروگرام نیو آرڈر میں بات کرتے ہوئے پروفیسر ساس نے کہا کہ اگر یہ طاقتیں مل کر مداخلت نہیں کرتی ہیں تو مغربی ایشیا کا بحران عالمی عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ساس نے اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے برکس (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) ممالک کے اجتماعی کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ”سمجھدار لوگوں“ کو روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بھارت، روس اور چین ہی اس جنگ کو اجتماعی طور پر روک سکتے ہیں۔ اگر ٹرمپ نے ایران پر بمباری کی اور اسے پتھر کے دور میں واپس لے جانے کی کوشش کی تو ایران کیا جواب دے گا؟ اس بے مثال معاشی بحران کا گلوبل ساو¿تھ پر کیا اثر پڑے گا؟ بحران کے گہرے ہوتے ہی بھارت کو سفارتی اور جیو پولیٹیکل طور پر خود کو کس طرح پوزیشن میں رکھنا چاہیے؟ ٹرمپ نے جنگ کے سنگین معاشی نتائج کو مکمل طور پر غلط کیوں سمجھا؟ تقریب میں اہم سوالات اٹھائے گئے۔
اس کے جواب میں پروفیسر ساس نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، صدر شی جن پنگ اور صدر پوتن کو ٹرمپ کو بتانا چاہیے کہ اس تنازع کو ختم کرنا کیوں ضروری ہے۔ دنیا کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے روکنے میں ان ممالک کے لیڈروں کی داغ بیل ہے۔ ساس نے اسرائیل پر یہ بھی الزام لگایا کہ اس کی سیاسی قیادت میں چھٹی صدی قبل مسیح کی ذہنیت ہے۔
جب ان سے پاکستان کی جانب سے امن کی ثالثی کی مبینہ کوشش کے بارے میں پوچھا گیا تو ساس نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ صرف برکس ممالک ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ ابھی کسی کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے دوستی نہیں کرنی چاہیے۔ بھارت کو ایک عظیم ملک اور ایک سپر پاور کے طور پر اسرائیل کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہیے جس نے ابھی غزہ میں نسل کشی کی ہے۔
پروفیسر ساس نے کہا کہ ہندوستان میں اس بات کو نہیں کہنے کی طاقت ہے جسے اس نے امریکی وہم کہا ہے۔ تاہم، انہوں نے مشورہ دیا کہ ہندوستان روس، چین، برازیل اور دیگر برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ایران کے ساتھ بھی دیرینہ تعلقات ہیں جو اسے ایک مثالی ثالث بناتا ہے۔ ساس نے مغربی ممالک کو امریکہ کی ملکیت اور آپریٹڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو ان جابر ریاستوں کے راستے پر نہیں چلنا چاہیے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی