
واشنگٹن،06اپریل(ہ س)۔خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اسے تروکنے کی آخری کوشش جاری ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم اور فیصلہ کن قرار دیے جا رہے ہیں۔باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان علاقائی ثالثی کے ذریعے 45 دن کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔امریکا اور ایران نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک مستقل معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور جنگ کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ آج پیر کو ویب سائٹ ’اکسیوس ‘نے رپورٹ کیا۔امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی کم ہیں، تاہم یہ کوششیں کشیدگی کے کو روکنے کا آخری موقع سمجھی جا رہی ہیں، جس میں ایران کی شہری تنصیبات پر بڑے حملے اور اس کے جواب میں خلیجی ممالک میں توانائی اور پانی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے خدشات شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس تجویز کو دو مرحلوں پر مشتمل رکھا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں عارضی جنگ بندی ہوگی ،جس کے دوران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس جنگ بندی میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں ایک جامع معاہدہ شامل ہوگا، جو جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پسِ پردہ مذاکرات میں پاکستان، مصر اور ترکی کے ذریعے ثالثی کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ کچھ غیر علانیہ براہِ راست رابطے بھی جاری ہیں۔ اسی دوران واشنگٹن نے گزشتہ دنوں تہران کو متعدد تجاویز پیش کیں، تاہم اب تک ایران کی جانب سے ان پر کوئی حتمی منظوری سامنے نہیں آئی۔ثالثی کرنے والے فریق اعتماد سازی کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اعلیٰ درجے کی یورینیم افزودگی کے مسئلے کو حل کرنے سے متعلق اقدامات شامل ہیں، تاہم ایران عارضی جنگ بندی کے بدلے ان دونوں معاملات پر مکمل رعایت دینے سے انکار کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی فریقین اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایسے ضمانتی یقین دہانیاں حاصل کی جائیں کہ جنگ بندی کے دوران لڑائی دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی، کیونکہ ایران کو خدشہ ہے کہ کہیں ماضی کی طرح ایک کمزور جنگ بندی کسی بھی وقت ٹوٹ نہ جائے۔اس تناظر میں ثالثوں نے زور دیا ہے کہ آنے والے دو دن معاہدے تک پہنچنے کا آخری موقع ہیں اور خبردار کیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں ایران کے اندر وسیع تباہی اور خطے میں سنگین اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔یہ معلومات اس وقت سامنے آئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے۔انہوں نے مقررہ مہلت ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی، تاہم اتوار کو اپنے بیانات میں خبردار کیا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو وہاں سب کچھ تباہ کر دیا جائے گا، جس سے وسیع حملوں کے امکان کی طرف اشارہ ملتا ہے۔دوسری جانب تہران اب بھی سخت مو¿قف اپنائے ہوئے ہے اور کسی بنیادی رعایت دینے سے انکار کر رہا ہے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں پاسدارانِ انقلاب نے متعدد بار کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے لیےجنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan