دو کالجوں کو ملی بم کی دھمکی سے پھیلا خوف و ہراس، تلاشی میں کچھ نہیں ملا
نئی دہلی، 06 اپریل (ہ س): شمالی ضلع کے رامجس کالج اور مرانڈا ہاو¿س میں پیر کی صبح اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب انسٹی ٹیوٹ کو بم کی دھمکی والی مشتبہ ای میل موصول ہوئی۔ پولیس کے مطابق پیغام میں براہ راست بم کا ذکر نہیں تھا تاہم دھمکی کو سنجیدگی س
بم


نئی دہلی، 06 اپریل (ہ س): شمالی ضلع کے رامجس کالج اور مرانڈا ہاو¿س میں پیر کی صبح اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب انسٹی ٹیوٹ کو بم کی دھمکی والی مشتبہ ای میل موصول ہوئی۔

پولیس کے مطابق پیغام میں براہ راست بم کا ذکر نہیں تھا تاہم دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی کی گئی۔ کالج انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

احتیاط کے طور پر طلبائ، فیکلٹی اور عملے کو فوری طور پر کیمپس سے نکال لیا گیا۔ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ بم اسکواڈز، ڈاگ اسکواڈز اور کئی پولیس ٹیموں نے کیمپس کی گھنٹوں تک مکمل تلاشی لی۔

تفتیش کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی جس سے لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی تاہم احتیاط کے طور پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

مشتبہ ای میل میں انتہائی جارحانہ اور پرتشدد زبان تھی، جس میں ایک سیاسی خاندان کو نشانہ بنانے کی سنگین دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ سیکورٹی اداروں نے اس معاملے کو انتہائی حساس سمجھتے ہوئے اپنی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

شمالی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجہ بنتھیا کے مطابق، ای میل بھیجنے والے کی شناخت کے لیے اب سائبر ماہرین کو تحقیقات میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ای میل کے ماخذ اور مقام کا تعین کرنے کے لیے ابتدائی کوششیں جاری ہیں۔

واقعہ سے طلباءاور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم کالج انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور تمام ضروری حفاظتی انتظامات کر لیے گئے ہیں۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی افواہ کو نظر انداز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔ فی الحال، دونوں کالجوں میں معمول کی بحالی کا عمل جاری ہے، جبکہ مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande