
نئی دہلی، 06 اپریل (ہ س)۔گھریلو شیئر بازار میں مارچ کی طرح، اپریل کے مہینے میں بھیغیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی ) کے ذیعہ فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اپریل کے پہلے دو کاروباری دنوں میں، یعنی گزشتہ ہفتے یکم اور 2 اپریل کو، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے ایکویٹی مارکیٹ میں 19,837 کروڑ روپے کے حصص فروخت کر دیئے ۔اپریل کے مہینے میں گزشتہ ہفتے صرف دو دن ہی کاروبار ہو سکا تھاکیونکہ 3 اپریل بروز جمعہ گڈ فرائیڈے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں تعطیل تھی۔ مارچ کے شروع میں، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے ایکویٹی مارکیٹ میں 1.17 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ فروخت کی تھی۔
مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی کشیدگی کی وجہ سے، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں اپنے اثاثے فروخت کر کے اپنا پیسہ محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار بھی ،اسی وجہ سے ہندوستانی بازار میں زوردار طریقے سے فروخت کر رہے ہیں۔
مارچ میں، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے اکتوبر 2024 میں ایک ماہ میں سب سے زیادہ فروخت کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اکتوبر 2024 غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے 94,017 کروڑ روپے کی فروخت کرکے ایک ماہ میں سب سے زیادہ فروخت کا ریکارڈ بنایا تھا۔اس ریکارڈ کو مارچ کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 1.17 لاکھ کروڑ روپے کی فروخت کر کے توڑ ڈالا۔
مارچ سے پہلے، فروری 2026 میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) نے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی قوت خرید کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس ماہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 22,615 کروڑ روپے کے حصص کی خریداری کی تھی ۔ اکتوبر 2024کے بعد سے ہی اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل فروخت کے ماحول کے درمیان، فروری میں ہوئی خریداری گزشتہ 17 مہینوں میں سب سے زیادہ تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی سطح پر خدشات کی فضا پیدا کر دی ہے جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر اس جنگ کی وجہ سے خام تیل کی قیمت مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح روپے کی کمزوری نے بھی ایکویٹی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت کو ہوا دی ہے۔ مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے روپیہ کی قدر تقریباً چار فیصد کی گراوٹ آگئی ہے۔
دوسری جانب ڈالر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کار مقامی مارکیٹ سے اپنے فنڈز نکال کر امریکی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ نیشنل سیکیورٹیز ڈیپازٹری لمیٹڈ (این ایس ڈی ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 2026 میں گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں اپنے حصص فروخت کرکے 1.50 لاکھ کروڑ سے زیادہ نکال لیے ہیں۔
کھورانہ سیکیورٹیز اینڈ فائنانشیل سروسز کے سی ای او روی چندر کھورانہ کے مطابق، جب تک مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سبب خوف اور عدم استحکام کا ماحول برقرار رہے گا، اس وقت تک غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مقامی اسٹاک مارکیٹ میں واپسی کا امکان نہیں ہے۔ جغرافیائی سیاسی تناو¿ کم ہونے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ہی غیر ملکی سرمایہ کار ایک بار پھر ہندوستان جیسے ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے لیے پرجوش ہوں گے۔
تاہم، کھورانہ نے یہ بھی ذکر کیا کہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کے ذریعہ مارچ کے مہینے اور اپریل کے ابتدائی دو دن میں مسلسل کی گئی فروخت کی وجہ سے گھریلو اسٹاک مارکیٹ کے کئی سیگمنٹ کے ویلیوئشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔ قیمتوں میں اس کمی نے منتخب اسٹاک کی قیمتوں کو پرکشش بنا دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں، سرمایہ کار مارکیٹ ماہرین کے مشورے کی بنیاد پر اپنی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ میں جاری ہنگامہ آرائی کے پیش نظر، سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی احتیاط سے کرنی چاہیے ورنہ انہیں اہم نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد