
نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س): اتوار (5 اپریل) کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف لکھنو¿ سپر جائنٹس کی جیت کو تنازعہ نے گھیر لیا ہے۔ اس تنازع کے مرکز میں لکھنو¿ کے تیز گیند باز اویس خان ہیں، جن کے ایکشن پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
دراصل میچ کے آخری اوور میں جب رشبھ پنت نے جے دیو انادکٹ کی گیند پر چوکا لگایا تو لکھنو¿ ڈگ آو¿ٹ کے پاس کھڑے اویس خان کا بلا گیندسے لگ گیا۔ کچھ کا دعویٰ ہے کہ گیند نے ابھی تک باو¿نڈری پار نہیں کی تھی۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ سن رائزرس حیدرآباد کو پانچ پنالٹی رنز دینے چاہیے تھے اور امپائرس کو قانون 20.1 (ڈیڈ بال) اور قانون 41 (غیر منصفانہ کھیل) کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔
تاہم، کرکٹ کے ماہرین کے مطابق، اگرچہ اویس خان کا ایکشن غیر منصفانہ اور غیر پیشہ ورانہ ہو سکتا ہے، اسے کسی فیلڈر کی کوشش میں رکاوٹ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس وقت کوئی بھی فیلڈر گیند کو روکنے کے لیے موجود نہیں تھا۔ لہذا، غیر منصفانہ کھیل کے اصول کو لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
اس وقت میچ کی صورتحال ایسی تھی کہ لکھنو¿ کو جیتنے کے لیے صرف ایک رن کی ضرورت تھی اور اسکور برابر تھا۔ ایک امپائر نے یہ بھی واضح کیا کہ اس صورتحال میں باو¿نڈری کو نامنظور کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سن رائزرس حیدرآباد اس معاملے پر بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) سے شکایت کر سکتا ہے۔ ٹیم پہلے ہی مبینہ طور پر اپنے آخری دو میچوں میں امپائرنگ کے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہے۔
مبینہ طور پر ٹیم کو رائل چیلنجرس بنگلور کے خلاف پہلے میچ میں فل سالٹ کے ہینرک کلاسن کے باو¿نڈری پر کیچ پر اعتراض ہے۔ 2 اپریل کو ایڈن گارڈنز میں کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے خلاف میچ میں ابھیشیک شرما کے آو¿ٹ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مزید برآں ورون چکرورتی کے بلیسنگ مزارابانی کے کیچ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اگرچہ سن رائزرس نے اپنا دوسرا میچ جیتا تھا، لیکن وہ 29 مارچ کو بنگلورو میں کھیلا گیا میچ ہار گیا تھا۔ حالانکہ ان فیصلوں یا میچ کے نتائج میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے، فرنچائز پورے معاملے کے بارے میں بی سی سی آئی سے رجوع کر سکتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی