مصنوعی ذہانت پر پانچ روزہ قومی ورکشاپ و فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز
علی گڑھ, 06 اپریل (ہ س)۔ شعبہ پیٹرولیم اسٹڈیزعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آئی پی ایس آر سلوشن لمیٹڈ کے اشتراک سے ”تدریس اور تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال“موضوع پر قومی ورکشاپ اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام (ایف ڈی پی) کا آغاز کیا، جو 10 اپریل تک
مصنوعی ذہانت پر


علی گڑھ, 06 اپریل (ہ س)۔

شعبہ پیٹرولیم اسٹڈیزعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آئی پی ایس آر سلوشن لمیٹڈ کے اشتراک سے ”تدریس اور تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال“موضوع پر قومی ورکشاپ اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام (ایف ڈی پی) کا آغاز کیا، جو 10 اپریل تک جاری رہے گا۔

پروگرام میں ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے 200اساتذہ اور محققین شرکت کر رہے ہیں۔ اس کا ہدف تدریس، لرننگ، اسیسمنٹ اور تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے لیے ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ پروگرام کے تکنیکی سیشن میں عملی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جس میں عملی اطلاقات، چھوٹے پروجیکٹس اور ایک ٹیم کی طرح سیکھنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

پروگرام کے آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر اشرف متین نے کہا کہ اس ورکشاپ کو اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے جدید ہنر اور آلات سے آراستہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیز کو تدریسی اور تحقیقی عمل میں مؤثر طور پر شامل کر سکیں۔

اس میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی اصول، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اس کی اہمیت اور سبق کی منصوبہ بندی، نتائج پر مبنی تعلیم اور مواد کی تیاری میں اس کے استعمال جیسے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ سطح کے ماڈیولز میں اے آئی پر مبنی اسیسمنٹ، تعلیمی نظم و نسق اور لرننگ اینالیٹکس پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ شرکاء کو اے آئی پر مبنی ٹولز، لٹریچر ریویو، اکیڈمک رائٹنگ، سرقہ کی جانچ اور جرنل کے انتخاب کے حوالے سے بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنریٹیو اے آئی، اخلاقی پہلوؤں اور ڈیٹا پرائیویسی پر بھی مباحثے شامل ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande