
علی گڑھ، 06 اپریل (ہ س)۔
ممتاز عالم دین مولانا حکیم عبداللہ مغیثی کے سانحہ ارتحال پر ضلع بھر میں گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا علی گڑھ کی شاہی جامع مسجد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر جلسہ حاجی محمد سفیان نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا نے اپنی پوری زندگی دین و ملت کی خدمت کے لئے وقت کردی تھی انکی علمی و تعلیمی خدمات کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا انکے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پر نہیں ہوسکے گا۔
اترپردیش خواتین و اطفال کنٹرول بورڈ کے سابق چیئرمین محمد قمر عالم نے کہا کہ مولانا حکیم عبداللہ مغیثی کی رحلت علم و عمل کا ایک درخشاں با ب کے اختتام کے مترادف ہے وہ ایک عالم دین کے ساتھ ملت کے درد سے سرشار ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ انکی پوری زندگی دین کی خدمت اور اصلاح امت میں گذری۔ ناظم جامع مسجد محمد احمد شیون نے کہا کہ مولانا حکیم عبدللہ مغیثی کاانتقال ملت کا بڑا خسارہ ہے وہ اکابرین کے سچے وارث نہایت مخلص اور در دمند رہنما تھے۔انھوں نے ہمیشہ امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا،دینی مدارس کا استحکام اور ملی خدمات میں انکا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اس موقع پر نورعشرت، محمد وصی، عاطف الزماں خان، مکرم علی صدیقی، افتخار عالم نے بھی گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لئے دعاءِ مغفرت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ