امریکہ کا جنگ بندی کےلئے آخری موقع ،ایران کی جانب توجہ مرکوز
تہران،06اپریل(ہ س)۔ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی زیر غور تجویز کے بعد، توجہ اب تہران کی جانب مرکوز ہو گئی ہے اور اس بات کے امکانات پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا ایران 45 دن کی عارضی جنگ بندی کو قبول کرے گا یا نہیں۔ام
امریکہ کا جنگ بندی کےلئے آخری موقع ،ایران کی جانب توجہ مرکوز


تہران،06اپریل(ہ س)۔ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی زیر غور تجویز کے بعد، توجہ اب تہران کی جانب مرکوز ہو گئی ہے اور اس بات کے امکانات پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا ایران 45 دن کی عارضی جنگ بندی کو قبول کرے گا یا نہیں۔امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے بتایا کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔مزید برآں ثالث فریق اعتماد سازی کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں، جن میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے اعلی درجے کی یورینیم افزودگی کے ذخائر سے متعلق معاملات شامل ہیں، جیسا کہ آج پیر کو ویب سائٹ ’اکسیوس‘ نے رپورٹ کیا۔

ذرائع نے واضح کیا ہے کہ تہران 45 دن کی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز اور یورینیم کے معاملات میں کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ ثالث فریق خبردار کر چکے ہیں کہ مزید مذاکرات کے لیے وقت محدود ہے۔ایران کی جانب سے حالیہ دنوں تک کسی بھی عارضی جنگ بندی کی تجویز کے حوالے سے سخت موقف اپنایا ہے اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے کہ جنگ دوبارہ نہ چھڑے۔دو دن قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے ''ایکس'' پر اپنی پوسٹ میں لکھا: ہماری ترجیح غیر قانونی جنگ کا مستقل اور دائمی خاتمہ ہے، جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو انہیں گمراہ کر رہا ہے۔انہوں نے ''ایکس ''پر لکھا: آپ کی غیر محتاط حرکتیں امریکہ کو ہر گھر کے لیے حقیقی جہنم میں دھکیل رہی ہیں اور ہمارا پورا خطہ جل جائے گا کیونکہ آپ نتن یاہو کے احکامات پر عمل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔یہ بیانات امریکی تجویز کے حوالے سے تہران کے منفی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کل منگل تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے پلوں اور توانائی کے تنصیبات پر حملہ کیا جائے گا اور جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ایک اعلیٰ اسرائیلی دفاعی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل جس نے گزشتہ ہفتے ہفتہ کو ایک بڑے پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر حملہ کیا تھا، چند دنوں میں ایرانی توانائی کے مراکز پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور واشنگٹن کی منظوری اور امریکی ’سبز اشارے ‘ کا انتظار کر رہا ہے، جس سے تہران پر دباو مزید بڑھ رہا ہے، جیسا کہ ’رائٹرز‘ نے رپورٹ کیا۔فرانسیسی پریس کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ جس میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے، میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔اب تک پاکستان، مصر اور ترکی کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں سے بھی کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔دریں اثنا آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس نے دنیا بھر کے صارفین اور کمپنیوں پر دباو¿ مزید بڑھا دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande