
تہران،06اپریل(ہ س)۔ایران کے کئی شہروں میں اتوار کو بیک وقت ہونے والے دھماکوں اور حملوں کے سلسلے میں فوجی و صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ملک کے جنوبی اور وسطی حصوں میں پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات اور اہم مراکز پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے قم، شیراز اور بروجرد سمیت کئی شہروں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی تصدیق کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان حملوں میں حساس فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق قم شہر میں ہونے والے بڑے دھماکوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر کسی اہم شخصیت کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ہدف کی نوعیت یا نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔شیراز شہر میں بھی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے ساتھ ہی شہر کے شمالی اور شمال مشرقی حصوں میں میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور پاسدارانِ انقلاب کے صدر دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔واضح رہے کہ شیراز میں کئی اہم فوجی مراکز موجود ہیں جن میں شہید دوران نامی ساتواں ایئر بیس بھی شامل ہے، جو ٹرانسپورٹ طیاروں اور سوخوئی 24 لڑاکا طیاروں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ شہر کے شمال مشرقی علاقے زیرِ زمین قلعہ نما تنصیبات کے لیے مشہور ہیں جہاں بیلسٹک میزائل ذخیرہ کیے جاتے ہیں اور وہاں پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن سینٹرز بھی قائم ہیں۔ملک کے مغرب میں واقع شہر بروجرد میں بھی بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں لیکن نقصانات کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ اس سے قبل ساحلی شہروں بشہر اور بندر عباس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔صوبہ خوزستان سے متعلق فارس نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اہواز شہر پر ہونے والے حملے میں ایئرپورٹ کو دو بار نشانہ بنایا گیا، جبکہ 92 بکتر بند ڈویڑن پر بھی بمباری کی گئی جس سے پورا شہر لرز اٹھا ہے۔ ادھر وسطی ایران کے شہر اراک میں بھی شدید حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات ہیں تاہم نقصانات کی صحیح تفصیلات تاہل موصول نہیں ہوئیں۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اصفہان شہر کے قریب امریکی ہیلی کاپٹروں کے ساتھ جھڑپ کے دوران فضائی دفاعی نظام کے چار کمانڈر ہلاک ہو گئے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan