

تہران، 06 اپریل (ہ س)۔ جنگ کے شعلوں سے جھلس رہے مغربی ایشیاکے آسمان پر خدشات کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو منگل تک کھولنے کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے انتباہ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے تہران نے ٹرمپ کو ’بے بس‘ اور ’گھبرایا ہوا‘ قرار دیا۔ ایران نے کہا کہ اسے دھمکیوں کی پرواہ نہیں ہے۔ ہرمز نہیں کھولا جائے گا۔ جسے جو کرنا ہو، کر لے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر امن معاہدہ قبول نہ کیا تو وہ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایران کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام امریکی صدر کی دھمکیوں سے بالکل بھی پریشان نہیں ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانیوں کے پاس اپنے دفاع کے لیے ہر وہ ضروری چیز موجود ہے۔ اور اس جنگ کے پہلے ہی دن سے، ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جو کہتا ہے ، اسے کر دکھاتا ہے۔ یعنی ملک کے شہری انفراسٹرکچر (خاص طور پر پاور پلانٹس) پر حملہ ہوا تو دشمن کو ویسا ہی جواب دیا جائے گا۔
چینل کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ ایرانی شہری انفراسٹرکچر اور پیٹرو کیمیکل پلانٹس پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ بوشہر نیوکلیئر سائٹ پر حملے میں ایک شخص مارا گیا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے مرحوم ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کی بھانجی اور بیٹی کو گرفتار کر کے ان کی مستقل شہریت منسوخ کر دی ہے۔ تاہم، ایک بیان میں ان کی بیٹیوں نے کہا کہ ان کا امریکہ میں گرفتار کی گئی ان دونوں خواتین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد