
تہران،06اپریل(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے چند روز قبل فارین افیئرز جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کے اثرات اب بھی ایرانی منظر نامے پر چھائے ہوئے ہیں۔
موجودہ حکام کے مقرب حلقوں کی جانب سے تنقید کی مہم کے بعد، با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ظریف کو اس مضمون کی وجہ سے سرزنش کی گئی ہے جسے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتائی۔مزید برآں ایران کے پراسیکیوٹر جنرل نے سیاسی شخصیات اور میڈیا پلیٹ فارمز یا عوامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے لیے ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران، عوامی شخصیات اور پلیٹ فارم مالکان کو ایسی رائے دینے یا مواد شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو قومی مفادات، قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہو یا ان کے اختیارات کی حدود سے تجاوز کرتا ہو۔
یہ پیش رفت ظریف کے اس امریکی جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان باہمی رعایتیں دینے کی دعوت دی تھی۔تجربہ کار سفارت کار کا موقف تھا کہ ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک جامع امن معاہدہ کرنا چاہیے، جس میں پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی جائے۔انہوں نے یہ رائے بھی دی کہ دونوں ممالک کو اس آفت کو 47 سالہ دشمنی ختم کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں انہوں نے اشارہ کیا کہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگراموں کو فوجی ذرائع سے نہیں روکا جا سکتا۔ ان کا خیال تھا کہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر کے آبنائے ہرمز کھول دینا چاہیے، جبکہ بدلے میں امریکہ اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کر دے۔تاہم ان تجاویز نے حکومتی حامیوں کی جانب سے سابق وزیر کے خلاف تنقید کی لہر دوڑا دی۔ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے حامیوں میں سے ایک سعید حدادیان نے ظریف کو ’جاسوس‘قرار دیا۔دوسری جانب بیتِ رہبری کی مقرب شخصیت اور اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری نے ان تجاویز کو دشمنوں کے سامنے جھکنے کی ایک قسم قرار دیا اور عدالتی حکام سے ظریف کے محاسبے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ ظریف کو سابق صدر حسن روحانی سے وابستہ حلقے کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً 6 ہفتے قبل جنگ کے آغاز سے ان کی موجودگی محدود رہی تھی، تاہم حال ہی میں وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دوبارہ سرگرم ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan