
نئی دہلی، 06 اپریل (ہ س): دہلی حکومت نے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لئے پرائیویٹ اسکولوں میں ای ڈبلیو ایس، ڈی جی اور بچوں کے ساتھ خصوصی ضروریات (سی ڈبلیو ایس این) زمرے کے تحت داخلوں کے لئے پہلی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کا انعقاد کیا۔
دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے پیر کے روز پرانی سیکرٹریٹ میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے نظامت تعلیم کے نجی غیر امدادی تسلیم شدہ اسکولوں میں داخلہ سطح کی نرسری اور کے جی اور کلاس 1 میں ای ڈبلیو ایس اور ڈی جی اور بچوں کے ساتھ خصوصی ضروریات کے زمرے کے داخلوں کے لیے قرعہ اندازی کے کمپیوٹرائزڈ ڈرا کا مشاہدہ کیا۔ یہ سارا عمل شفافیت اور انصاف پسندی کے ساتھ والدین اور اہلکاروں کی موجودگی میں انجام دیا گیا، ہر اہل بچے کے لیے یکساں مواقع کو یقینی بنایا گیا۔
کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے بعد وزیر تعلیم آشیش سود نے کہا کہ دہلی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ریاست کے ہر اہل بچے کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال تکنیکی بہتری، بشمول این آئی سی کے تیار کردہ اور منظور شدہ سافٹ ویئر اور ان تمام زمروں میں داخلوں کے لیے آدھار پر مبنی تصدیق، نے مو¿ثر طریقے سے نقل اور غلط درخواستوں پر روک لگا دی ہے۔ اس نے حقیقی فائدہ اٹھانے والوں کو داخلے کے زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اس سال نشستوں کی کل تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور درخواست کے عمل کو آسان اور شفاف بنایا گیا ہے۔ 2025-26 کے مقابلے اس سال ا سکولوں کی کل تعداد 2219 سے بڑھ کر 2308 ہو گئی ہے۔ ای ڈبلیو ایس اور ڈی جی زمرہ کے تحت سیٹیں 44,045 سے بڑھ کر 48,092 ہو گئی ہیں، جبکہ سی ڈبلیو ایس این زمرہ کے تحت سیٹیں 6,471 سے بڑھ کر 7,609 ہو گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال نشستوں کی کل تعداد 50,516 سے بڑھ کر 55,701 ہوگئی ہے جو کہ 5,185 نشستوں کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
سود نے کہا کہ دہلی حکومت کے محکمہ تعلیم کو اس سال کل 139,524 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ای ڈبلیو ایس اور ڈی جی زمروں میں مکمل طور پر مکمل شدہ درخواستوں کی تعداد 138,536 ہے۔ سی ڈبلیو ایس این زمرہ میں مکمل شدہ درخواستوں کی تعداد 904 سے بڑھ کر 988 ہو گئی ہے۔
سود نے یہ بھی واضح کیا کہ قرعہ اندازی کے بعد نتائج منجمد ہونے کے بعد کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار قرعہ اندازی مکمل طور پر شفاف طریقے سے پی پی ٹی پریزنٹیشن کے ذریعے کی گئی۔ والدین نے خود قرعہ اندازی کی، جس سے اس عمل میں ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ قرعہ اندازی کے فوراً بعد بچوں کوا سکول الاٹ کر دیے گئے۔ پچھلے سال سے اس عمل میں بہتری آئی ہے۔ والدین کے دستاویزات کی اب ان کے موبائل فون پر تصدیق کی جاتی ہے، جس سے اسکولوں میں بار بار جانے کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزید عمل اگلے تین دنوں میں شروع ہو جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ منتخب طلباءکو بغیر کسی پریشانی کے داخلہ مل سکے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ قرعہ اندازی ہزاروں بچوں کو داخلہ کے مواقع فراہم کرے گی، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دہلی حکومت کا انتخابی عمل مکمل طور پر منصفانہ، شفاف اور میرٹ پر مبنی ہے۔ یہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ای ڈبلیو ایس زمرے میں والدین کو ان کے واجب حقوق ملیں اور ہر اہل بچے کو مساوی مواقع ملے۔
سود نے کہا کہ دہلی حکومت تعلیم کے میدان میں شمولیت، شفاف انتخاب اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور داخلہ کا یہ عمل اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی