بین الاقوامی اسلحہ سمگلنگ اور دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش، مزید دو ملزمان گرفتار
نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س): دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بین الاقوامی ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاو¿ن میں دو اور اہم مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے گرفتاریوں کی کل تعداد 12 ہوگئی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس
انکشاف


نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س): دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بین الاقوامی ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاو¿ن میں دو اور اہم مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے گرفتاریوں کی کل تعداد 12 ہوگئی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے روابط ہیں۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (کرائم برانچ) سنجیو یادو نے پیر کو بتایا کہ یہ کارروائی کرائم برانچ کے اینٹی ریکٹس سیل (اے آر ایس سی) کی ایک ٹیم نے انسپکٹر مان سنگھ اور انسپکٹر سندر گوتم کی قیادت میں کی تھی۔ گرفتار ملزمان کی شناخت عمران (37) اور محمد کامران (27) کے طور پر ہوئی ہے، دونوں کا تعلق بلند شہر، اتر پردیش سے ہے۔ دونوں کو لک آو¿ٹ سرکلر (ایل سی) کی بنیاد پر 2 اپریل کو آئی جی آئی ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ معاملہ 14 مارچ 2026 کو درج ایف آئی آر نمبر 49/26 سے منسلک ہے، جس میں یو اے پی اے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس سے قبل اس کیس میں 10 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے قبضے سے 21 جدید ترین ہتھیار اور 200 زندہ کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔

تازہ ترین کارروائی میں، پولیس نے ملزم سے ایک 0.30 بور کا چینی پستول، ایک 0.32 بور کا ریوالور، 11 زندہ کارتوس، اور ایک ترمیم شدہ ماروتی سوئفٹ کار برآمد کی۔ اس کار میں ہتھیاروں کو چھپانے کے لیے بنائے گئے مخصوص چھپے ہوئے کمپارٹمنٹ تھے، جو اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نیپال سے غیر قانونی ہتھیاروں کی کھیپ درآمد کرتے تھے، جنہیں بھارت میں اسمگل کیا جاتا تھا۔ انہیں دہلی-این سی آر اور دیگر ریاستوں میں جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر میں تقسیم کیا جاتا تھا۔

پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک کا سرغنہ شہباز انصاری ہے جو اس وقت مفرور ہے اور بیرون ملک اپنے آقاو¿ں کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ سیکیورٹی اداروں سے بچنے کے لیے یہ ہتھیار پاکستان سے تھائی لینڈ اور نیپال کے راستے بھارت کو فراہم کیے گئے تھے۔ تفتیشی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ یہ ہتھیار بڑے دہشت گردانہ حملوں میں استعمال ہو سکتے تھے، خاص طور پر مذہبی اجتماعات اور پرہجوم علاقوں کو نشانہ بنانے میں۔ پولیس نے کہا کہ یہ نیٹ ورک ملک کی داخلی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش کا حصہ تھا۔ کرائم برانچ نے اپنی تفتیش تیز کر دی ہے اور مفرور ملزمان کی تلاش کر رہی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande