اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن انتخابات ایک بار پھر تنازعہ کا شکار
علی گڑھ، 06 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابات ایک بار پھر تنازع کا موضوع بن گئے ہیں۔ ایک طرف موجودہ باڈی نے انتخابی عمل مکمل کرانے اور کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسرا فریق سوسائٹی رجسٹرار کی جانب سے جاری ان
الیکشن اے ایم یو


علی گڑھ، 06 اپریل (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابات ایک بار پھر تنازع کا موضوع بن گئے ہیں۔ ایک طرف موجودہ باڈی نے انتخابی عمل مکمل کرانے اور کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسرا فریق سوسائٹی رجسٹرار کی جانب سے جاری انتخابی شیڈول کے مطابق انتخابات میں شامل ہونے کی بات کر رہا ہے۔ اسی درمیان گزشتہ روز اے ایم یو اولڈ بوائزایسوسی ایشن کے دفتر میں انتخابی عمل ہوا اورنتائج کا اعلان بھی کر دیا گیا، جس کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔انتخابی نتائج کے مطابق ڈاکٹر اعظم میر خان کو ایک بار پھر بلا مقابلہ اعزازی جنرل سکریٹری منتخب قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح جوائنٹ سکریٹری کےعہدوں پربھی امیدوارعلی گڑھ زمرے سے ڈاکٹر نورالامین اور علی گڑھ سے باہر کے زمرہ سے اطہرابراہیم خان کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا۔ چیف الیکشن آفیسر پروفیسر محمد نوید خان کی جانب سے جاری نتائج میں سی ای سی کے اراکین کے انتخاب کے نتائج بھی جاری کیے گئے، جن میں مختلف امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔نتائج کے مطابق تصورجمال، ایوب علی خان ایڈووکیٹ، شہباز عالم، بدرالدجیٰ صدیقی (نجمی)، نیاز احمد، صلاح الدین، سید محمد حیدر نقوی، محمد ابو بکر، شمیم احمد، لیاقت خان اور ریاض الحسن صدیقی سمیت متعدد امیدوار سی ای سی کے رکن منتخب قرار دیے گئے۔

اس کے علاوہ علی گڑھ سے سی ای سی کے ارکان میں بدرالزماں خان، نفیس احمد، پون گپتا، مظفر علی، وسیم علی، طارق احمد خان، راشد مصطفیٰ، محمد یاسین، سید مازن حسین زیدی، عرفان رحم علی، توفیق احمد، ریحان احمد، کاشف طارق، مسعود احمد،اور رئیس احمد کے نام شامل ہیں۔تاہم دوسرے فریق نے ان انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوسائٹی رجسٹرار کی جانب سے جو سرکاری الیکشن شیڈول جاری کیا گیا ہے، انتخابات اسی کے مطابق ہوں گے اور یہی انتخابات قانونی مانے جائیں گے۔ڈاکٹر اعظم میر خان نے کہا کہ انتخابات تنظیم کے آئین اور مکمل شفاف طریقے سے کرائے گئے ہیں اور تمام اراکین کو اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بلا مقابلہ جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا ہے اور ان کی پوری ٹیم کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کو مضبوط بنانا اور تعلیمی و سماجی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے انتخابات کوغیرقانونی قرار دینے کے الزامات کو بے بنیاد بتایا۔

دوسرے فریق کے ذمہ ار سینئر رکن سید ندیم احمد نے کہا کہ تنظیم کے انتخابات سوسائٹی رجسٹرار کے ذریعہ جاری انتخابی شیڈول کے مطابق ہی معتبر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو انتخابات کرائے گئے ہیں وہ ضابطوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے انہیں تسلیم نہیں کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات سوسائٹی رجسٹرار کے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ جس باڈی کے انتخاب ہوئے اسکو تسلیم سوسائٹی رجسٹرار ہی کرتے ہیں جب انکی جانب سے ہی اس انتخابی عمل کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے تو پھر اس انتخاب اور نتائج کی کوئی اہمیت نہیں ہے،انھوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے اس غیر قانونی انتخابی عمل میں حصہ ہی نہیں لیا تھا اس لئے زیادہ لوگ بلا مقابلہ جیتنے کا دعوی کررہے ہیں اب جو سوسائٹی رجسٹرار کا شیڈول ہے اس میں ہم حصہ لینگے۔مجموعی طور پر اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابات ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئے ہیں، ایک فریق انتخابات مکمل ہونے اور نئی باڈی منتخب ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ دوسرا فریق اسے غیر قانونی قرار دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ قانونی اور تنظیمی سطح پر کیا رخ اختیار کرتا ہے۔۔۔۔۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande