
علی گڑھ, 06 اپریل (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لٹریری فیسٹیول 2026 کا آغاز کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے کینیڈی آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، جس میں ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان جبکہ مہمانِ اعزازی کے طور پر ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری شریک ہوئے۔ اس موقع پر سی ای سی کے کوآرڈی نیٹر پروفیسر محمد رضوان خان، یونیورسٹی ڈیبیٹنگ اینڈ لٹریری کلب کے صدر ڈاکٹر منصور عالم صدیقی، مینٹر ڈاکٹر غفران احمد اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب میں پروفیسر محمد محسن خان نے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کی شاندار روایت کو یاد کیا اور اپنے زمانہ طالب علمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سی ای سی کی جانب سے فراہم کی جانے والی تربیت اور فکری آبیاری ہمہ جہت شخصیات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز سے وابستہ طلبہ میں خود اعتمادی، وضاحتِ فکر اور ابلاغی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں، جو انہیں مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے اے ایم یو کی عظمت اور وراثت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ آزادانہ تحقیق اور باہمی احترام جیسی اس کی بنیادی اقدار کو آگے بڑھائیں۔
پروفیسر محمد اطہر انصاری نے ادبی میلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز فکری ترقی اور ثقافتی تنوع کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریبات طلبہ میں مکالمہ، تنقیدی سوچ اور تخلیقی اظہار کو پروان چڑھاتی ہیں، جس سے کیمپس کی فضا مزید زرخیز بنتی ہے۔
پروفیسر محمد رضوان خان نے فیسٹیول کو“ادبی آوازوں اور بامعنی مکالمے کا جشن”قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی ای سی مسلسل ایک متحرک پلیٹ فارم کے طور پر خیالات، مباحث اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دیتا آ رہا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ فعال شرکت کریں، کشادہ دلی کے ساتھ سنیں اور سنجیدہ تبادلہ? خیال اور باوقار اختلافِ رائے کی ثقافت کو فروغ دیں۔
ڈاکٹر منصور عالم صدیقی نے فیسٹیول کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے بامقصد فکری مکالمے کے لیے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر غفران احمد نے محمد اقبال کے افکار کی روشنی میں موجودہ دور میں سننے اور مؤثر ابلاغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس سے قبل یو ڈی ایل سی کے سکریٹری سید فہیم احمد نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے فیسٹیول کو طلبہ کی تخلیقی اظہار اور فکری شرکت کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا۔
افتتاحی سیشن کی ایک نمایاں جھلک“پری-لِٹ لیٹر”کے نام سے فیسٹیول نیوز لیٹر کا اجرا تھا، جس کی ادارت عالیہ اکبر، راحت العین اور زینب فائزہ اسلام نے کی۔
پروگرام کا اختتام آمنہ عاصم کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔
یہ فیسٹیول آئندہ دو دنوں تک جاری رہے گا، جس کے دوران مختلف ادبی پروگرام، مباحثے اور مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ