
لکھنو¿،6 اپریل (ہ س)۔
اتر پردیش اب دفاعی مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپ ہب کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس تبدیلی کی ایک مثال دارالحکومت لکھنو¿ میں دیکھی گئی جہاں ایک پرائیویٹ اسٹارٹ اپ نے جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔تین نوجوان صنعت کاروں پون ،رویندر پال سنگھ اور سوربھ سنگھ کے ذریعہ قائم کمپنی ہاوریٹ نے دیویہ اسٹر ایم کے 1کے نام کاایڈوانس یو اے وی تیار کیا ہے ۔یہ ڈرون جدید جنگی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے جو نگرانی کے ساتھ ساتھ درست حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈرون کی اہم خصوصیات میں اس کی 500 کلو میٹر رینج، تقریباً 5 گھنٹے پرواز کی گنجائش، اور اے آئی پر مبنی ٹارگٹنگ سسٹم شامل ہیں۔ یہ 10,000 فٹ تک اڑ سکتا ہے اور درست ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً 15 کلو گرام کا پے لوڈ لے سکتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارکیٹ کے دیگر متبادل کے مقابلے میں کافی سستا ہے۔
اسٹارٹ اپ کے بانیوں نے وضاحت کی کہ بہتر ریاستی پالیسیوں اور ڈیفنس کوریڈور جیسے اقدامات نے انہیں تیزی سے ترقی کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی فی الحال ہندوستانی فوج کو ڈرون سپلائی کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور اسے پہلے ہی ابتدائی آرڈر مل چکے ہیں۔ مستقبل میں، کمپنی ایم کے-2 ورزن پر بھی کام کر رہی ہے، جس کی رینج 2,000 کلومیٹر اور 80 کلوگرام تک پے لوڈ کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ اتر پردیش ڈیفنس کوریڈور میں ایک نیا مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کا ہدف ہر ماہ 20 ڈرون تیار کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹیکنالوجی جنگوں میں ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ اس تناظر میں، اتر پردیش کے نوجوانوں کے ذریعہ تیار کردہ یہ اختراع نہ صرف ریاست کی بدلی ہوئی شبیہہ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ملک کی سلامتی کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ