سونم وانگچک کا کرگل میں والہانہ استقبال کیا گیا۔
لداخ, 05 اپریل (ہ س)لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کا اتوار کے روز کرگل پہنچنے پر زبردست استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے لداخ اور ملک بھر میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یو ٹی کے لیے جمہوری اور آئینی حقوق کا مطالبہ دہرایا۔ سونم وانگچ
Wangchuk


لداخ, 05 اپریل (ہ س)لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کا اتوار کے روز کرگل پہنچنے پر زبردست استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے لداخ اور ملک بھر میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یو ٹی کے لیے جمہوری اور آئینی حقوق کا مطالبہ دہرایا۔

سونم وانگچک کی یہ رہائی کے بعد پہلی بار کرگل آمد تھی۔ انہیں 14 مارچ کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت تقریباً چھ ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا تھا، جب سپریم کورٹ آف انڈیا میں دائر درخواست کے بعد مرکزی حکومت نے ان کی حراست کی بنیادیں واپس لے لی تھیں۔

اس موقع پر کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور لیہہ ایپکس باڈی کے رہنماؤں نے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئین کے چھٹے شیڈول کے نفاذ سمیت اپنے مطالبات کو دہرایا۔ انہوں نے وزارت داخلہ کی ہائی پاورڈ کمیٹی کے ساتھ جلد مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

وانگچک کے ہمراہ ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے بھی موجود تھے، جبکہ کے ڈی اے کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی، رکن پارلیمنٹ حنیفہ جان اور رہنما سجاد کرگلی نے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران ایک جلوس بھی نکالا گیا جس میں شرکاء نے ان کے حق میں نعرے لگائے۔

اپنے خطاب میں سونم وانگچک نے کہا کہ لداخ کے عوام کو مذہب، فرقہ اور علاقائی تقسیم سے اوپر اٹھ کر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کے عوام کو بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح جمہوری، آئینی اور وسائل پر حقوق ملنے چاہئیں۔

رکن پارلیمنٹ حنیفہ جان نے وانگچک کی رہائی کو سچائی کی جیت قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جلد مذاکرات بحال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا، چیرنگ دورجے نے کہا کہ وانگچک کی رہائی قانونی دباؤ کا نتیجہ ہے اور حکومت نے الزامات واپس لے کر اپنی پوزیشن بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ لیہہ میں پیش آئے واقعات کے بعد گرفتار کیے گئے متعدد کارکنان کے خلاف مقدمات اب بھی برقرار ہیں۔

اصغر علی کربلائی نے واضح کیا کہ تحریک مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مطالبات کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد لداخ ہی اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande