امریکا نے ایران کیخلاف جدید اے آئی سسٹم کا استعمال کیا
واشنگٹن،05اپریل(ہ س)۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت پروگرام پروجیکٹ میون کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔رپورٹس کے مطابق 2017ءمیں شروع ہونے والا یہ پروگرام ابتدا میں ڈرون فوٹیج کے تجزیے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ماہر
امریکا نے ایران کیخلاف جدید اے آئی سسٹم کا استعمال کیا


واشنگٹن،05اپریل(ہ س)۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت پروگرام پروجیکٹ میون کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔رپورٹس کے مطابق 2017ءمیں شروع ہونے والا یہ پروگرام ابتدا میں ڈرون فوٹیج کے تجزیے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ماہرین کو بڑی تعداد میں آنے والے ڈیٹا میں اہم اہداف کی نشاندہی میں مدد مل سکے، تاہم اب یہ ایک مکمل اے آئی بیسڈ ٹارگٹنگ اور بیٹل فیلڈ مینجمنٹ سسٹم میں تبدیل ہو چکا ہے۔یہ نظام سیٹلائٹ تصاویر، ہدف کی نقل و حرکت اور فوجی تعیناتی سے متعلق معلومات کو یکجا کر کے تیزی سے اہداف کی نشاندہی کرتا ہے اور کمانڈرز کو فوری کارروائی کے لیے مختلف آپشنز فراہم کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق پروجیکٹ میون جنگی حکمت عملی میں کِل چین کو چند گھنٹوں سے کم کر کے سیکنڈز تک لے آیا ہے، جس کے باعث اہداف کو انتہائی تیزی سے نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ابتدائی مراحل میں گوگل اس منصوبے کا حصہ تھا، تاہم 2018ئ میں ہزاروں ملازمین کے احتجاج اور اخلاقی خدشات کے باعث کمپنی نے معاہدہ ختم کر دیا، بعد ازاں پیلنٹیر اس پروگرام کا اہم ٹیکنالوجی پارٹنر بن کر سامنے آئی، جبکہ مستقبل میں دیگر کمپنیوں کی شمولیت بھی زیر غور ہے۔ادھر سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق آپریشن کے ابتدائی 3 ہفتوں میں روزانہ 300 سے 500 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ آپریشن ایپک فیوری کے پہلے 24 گھنٹوں میں 1 ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے۔دوسری جانب ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایک عمارت میں قائم اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں 7 سے 12 سال کی عمر کے 168 بچے جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande