پڑوسیوں کے جھگڑے میں کرانہ دکاندار کا قتل، دو زخمی
نئی دہلی، 5 اپریل (ہ س)۔ شمال مغربی ضلع کے سبھاش پلیس تھانہ علاقے میں ہفتہ کی رات پڑوسیوں کے درمیان جھگڑا خونریز جھڑپ میں بدل گیا۔ شکور پور کے کے بلاک سنجے پارک میں 50 سالہ گروسری اسٹور کے مالک کو چاقو سے وار کر کے قتل اور دو افراد کو شدید زخمی ک
پڑوسیوں کے جھگڑے میں کرانہ دکاندار کا قتل، دو زخمی


نئی دہلی، 5 اپریل (ہ س)۔

شمال مغربی ضلع کے سبھاش پلیس تھانہ علاقے میں ہفتہ کی رات پڑوسیوں کے درمیان جھگڑا خونریز جھڑپ میں بدل گیا۔ شکور پور کے کے بلاک سنجے پارک میں 50 سالہ گروسری اسٹور کے مالک کو چاقو سے وار کر کے قتل اور دو افراد کو شدید زخمی کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق ہفتہ کی رات تقریباً 9 بجکر 10 منٹ پر ایک پی سی آر کال موصول ہوئی جس میں شکور پور کے سنجے پارک علاقے میں پڑوسیوں کے درمیان لڑائی کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان جھگڑا بڑھتا گیا اور جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گیا۔

الزام ہے کہ حملہ آوروں نے لاٹھیوں، لوہے کی راڈ اور چاقوو¿ں سے حملہ کیا۔ راج کمار (50)، جو علاقے میں گروسری کی دکان چلاتا تھا، کو اس حملے میں کئی بار چاقو کے وار کیے گئے۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ جھگڑے میں دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جن کا علاج جاری ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس آکانکشا یادو اپنی ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ مقامی پولیس کے علاوہ کرائم ٹیم اور ایف ایس ایل کی ٹیم کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا۔ ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے۔ سبھاش پلیس پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 177/26 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق پولیس نے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ دیگر ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے۔ مبینہ طور پر کچھ ملزمین زخمی ہیں اور ان کا علاج چل رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی تمام ملزمین کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں اور غصے میں آکر قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande