پیٹرول کی قلت ختم، گیس سلنڈر بحران برقرار
نانڈیڑ ، 5 اپریل (ہ س) نانڈیڑ ضلع میں پیٹرول کی قلت کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو گیا ہے تاہم گھریلو گیس سلنڈروں کی قلت برقرار رہنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک میں جاری جنگ ک
LPG Supply Shortage


نانڈیڑ ، 5 اپریل (ہ س) نانڈیڑ ضلع میں پیٹرول کی قلت کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو گیا ہے تاہم گھریلو گیس سلنڈروں کی قلت برقرار رہنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک میں جاری جنگ کے باعث گیس اور پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی تھی، تاہم پیٹرول پمپوں پر قطاریں کم ہو گئی ہیں جبکہ گھریلو گیس کی مصنوعی قلت بدستور برقرار ہے جس سے عوام پریشان ہیں۔

ضلع میں انڈین، ہندوستان اور بھارت پیٹرولیم کمپنیوں کے تقریباً ساڑھے سات لاکھ صارفین ہیں۔ ضلع کلکٹر ڈاکٹر راہل کردیلے اور ضلع سپلائی افسر ڈاکٹر جگدیش باردیواڑ نے تقسیم کاروں کی میٹنگ لے کر ہدایت دی تھی کہ صارفین کو گیس سلنڈر گھر تک فراہم کیے جائیں، تاہم ان ہدایات پر عمل نہیں ہو رہا اور صارفین آج بھی گوداموں کے باہر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تجارتی مقاصد کے لیے گھریلو گیس سلنڈروں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اس پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی ٹیموں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں صرف پانچ سے چھ مقامات پر ہی کارروائی کی گئی ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ گیس بکنگ کے لیے آن لائن نظام میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں، جہاں او ٹی پی موصول نہیں ہوتا، اور اگر بکنگ ہو بھی جائے تو سلنڈر گھر تک فراہم نہیں کیا جاتا۔ تقسیم کاروں کی جانب سے 10 سے 15 دن کے انتظار کی بات کہی جا رہی ہے جس پر صارفین نے شدید ناراضگی ظاہر کی ہے۔

عوام کا سوال ہے کہ اگر ضلع میں گیس کی فراہمی وافر مقدار میں موجود ہے تو پھر بکنگ اور سپلائی میں رکاوٹ کیوں پیش آ رہی ہے۔

ضلع کے تمام تعلقوں میں گھریلو گیس سلنڈروں کی مصنوعی قلت محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ جنگ کے جاری رہنے کے باعث اس بحران میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے اور کئی افراد ضرورت سے زیادہ ذخیرہ اندوزی بھی کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande