
یروشلم،05اپریل(ہ س)۔اسرائیلی فوج نے شام اور لبنان کی سرحد پر واقع المصنع کراسنگ کے علاقے میں موجود افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ وہاں بمباری کی جا سکے۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام اور لبنانی سرحد پر واقع المصنع کراسنگ کے علاقے میں موجود تمام افراد اور ایم 30 شاہراہ پر سفر کرنے والے تمام مسافروں کے لیے فوری وارننگ جاری کی جاتی ہے کہ وہ اس جگہ کو خالی کر دیں۔فوج نے مزید کہا ہے کہ وہ اس علاقے کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ حزب اللہ المصنع کراسنگ کو فوجی مقاصد اور جنگی وسائل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ کار دو مارچ کو اس وقت لبنان تک پھیل گیا تھا جب امریکی اسرائیلی حملے کے پہلے ہی دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے ردعمل میں حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔المصنع کراسنگ میں موجود ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ وہ اسرائیلی دھمکی کے پیش نظر اس وقت سرحد کو خالی کروا رہے ہیں۔شام میں بارڈر اور کسٹمز کی جنرل اتھارٹی کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ مازن العلوش نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شام کی جانب جدیدہ یابوس کے نام سے معروف یہ گزرگاہ صرف سویلین استعمال کے لیے مخصوص ہے اور اسے کسی بھی قسم کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا۔مازن العلوش نے مزید کہا کہ گردش کرنے والی وارننگز کی روشنی میں اور مسافروں کی سلامتی کی خاطر گزرگاہ کے ذریعے ٹریفک کی نقل و حرکت کو کسی بھی ممکنہ خطرے کے ٹل جانے تک عارضی طور پر معطل کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کراسنگ المصنع لبنان اور شام کے درمیان مرکزی راستہ ہے جو دونوں ممالک کے لیے ایک حیاتیاتی تجارتی شاہراہ اور خطے کے دیگر حصوں کے لیے لبنان کا اہم ترین زمینی دروازہ تصور کیا جاتا ہے۔اسرائیل اس سے قبل اکتوبر سنہ 2024ءمیں حزب اللہ کے ساتھ گذشتہ جنگ کے دوران بھی اس گزرگاہ کو نشانہ بنا چکا ہے۔یہ گزرگاہ اس وقت تک بند رہی تھی جب تک کہ لبنانی اور شامی حکام نے اس وقت کی جنگ بندی کے ایک ماہ بعد مرمتی کام کا آغاز نہیں کر دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan