نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے، اسرائیلیوں کا ایران سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ
تہران،05اپریل(ہ س)۔سینکڑوں اسرائیلیوں نے ہفتے کے روز تل ابیب میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے۔جنگ کے باعث اجتماعات پر عائد پابندیوں کے باوجود مظاہرین شہر کے وسطی ساحلی علاقے کے ایک مر
نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے اسرائیلیوں کا ایران سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ


تہران،05اپریل(ہ س)۔سینکڑوں اسرائیلیوں نے ہفتے کے روز تل ابیب میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے۔جنگ کے باعث اجتماعات پر عائد پابندیوں کے باوجود مظاہرین شہر کے وسطی ساحلی علاقے کے ایک مرکزی چوک میں جمع ہوئے۔انہوں نے جنگ مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ،جن میں سے ایک پر لکھا تھا: بمباری نہیں (...) اس نہ ختم ہونے والی جنگ کو ختم کرو۔اسرائیلی-فلسطینی مشترکہ عوامی تنظیم ’اسٹینڈنگ ٹوگیدر ‘کے ایک رہنما ایلون-لی گرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: پولیس ہماری آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا: ہم یہاں ایران میں جنگ، لبنان میں جنگ اور غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے آئے ہیں، نیز مغربی کنارے میں ہونے والے مظالم کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔اسرائیل میں ہمیشہ جنگ رہتی ہے، اگر ہمیں احتجاج کی اجازت نہ دی گئی تو ہمیں کبھی بولنے کا موقع نہیں ملے گا۔اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق بعد ازاں اسرائیلی پولیس نے گرین سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔مظاہرین نے ایران کے خلاف جنگ کے حکومتی جواز پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔62 سالہ سِسیل جنہوں نے صرف اپنا پہلا نام بتایا، نے کہا: مجھے ان وجوہات پر سخت شک ہے، میرا خیال ہے کہ اصل وجہ یہ ہے کہ (نیتن یاہو) اپنی مقدمے کی کارروائی کو روکنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ نیتن یاہو ایک طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور انہوں نے صدارتی معافی کی درخواست بھی دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ پر انہیں معافی دینے کے لیے بارہا دباو¿ ڈالا ہے۔ہفتے کی شام ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تہران کی حکومت پر حملے جاری رکھیں گے اور ہم یہی کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا: آج ہم نے پیٹروکیمیکل فیکٹریوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کو ایرانی اسٹیل پیدا کرنے والی تنصیبات پر حملے کا اعلان کیا تھا۔نیتن یاہو کے مطابق: یہ دونوں صنعتیں ہمارے اور پوری دنیا کے خلاف جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہیں اور ہم انہیں نشانہ بناتے رہیں گے۔دوسری جانب مظاہرہ کرنے والی سِسیل کا کہنا تھا کہ جنگ کی وجوہات مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے کہ کامیابی یا ناکامی کیا ہوگی اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی۔اجتماعات پر پابندیوں کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا، تاہم یمن سے داغے گئے ایک میزائل کے الرٹ کے بعد لوگ منتشر ہونا شروع ہو گئے۔اسرائیلی فوج کے مطابق آدھی رات کے بعد ایران کی جانب سے آٹھ میزائل حملے کیے گئے، جبکہ ہفتے کی شام یمن سے بھی ایک میزائل داغا گیا۔اسرائیلی امدادی اداروں کے مطابق ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جو اب ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande