یورپ کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرانے کی کوششیں جاری
واشنگٹن،05اپریل(ہ س)۔چالیس ممالک کے اعلیٰ سطح کے حکام نے اس ہفتے آبنائے ہرمز میں مال بردار جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے ایک ویڈیو لنک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے دوران اطالوی وزیر خارجہ نے ایک انسانی راہداری قائم کرنے کی
یورپ کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرانے کی کوششیں جاری


واشنگٹن،05اپریل(ہ س)۔چالیس ممالک کے اعلیٰ سطح کے حکام نے اس ہفتے آبنائے ہرمز میں مال بردار جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے ایک ویڈیو لنک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے دوران اطالوی وزیر خارجہ نے ایک انسانی راہداری قائم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ غریب ممالک کو کھادوں اور بنیادی ضروریات کی اشیائ کی محفوظ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اطالوی حکام نے اجلاس کے بعد اس تجویز کو ان متعدد یورپی اور بین الاقوامی اقدامات میں سے ایک قرار دیا جن کا مقصد ایرانی جنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر قحط کو روکنا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق شریک سفرائ نے اس تجویز کی تائید نہیں کی اور اجلاس آبنائے ہرمز کو عسکری یا سفارتی طور پر دوبارہ کھولنے کا کوئی عملی منصوبہ وضع کیے بغیر ختم ہو گیا۔

یورپی ممالک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کے لیے دباو¿ کا سامنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایرانی پابندیوں کو ختم کرنے اور توانائی کے بڑھتے ہوئے عالمی معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر عسکری وسائل فراہم کریں۔ یورپی ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے اور صرف جنگ کے خاتمے کے بعد انتہائی اہم جہاز رانی میں مدد فراہم کرنے کے طریقوں پر بحث کرنے تک محدود رہے۔کسی مشترکہ منصوبے پر اتفاق رائے میں دشواری یورپی سفارت کاری کی سستی اور متعلقہ ممالک کی بڑی تعداد کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگی کی عکاس ہے، جن میں خلیجی ممالک بھی شامل ہیں جو تنازع کے خاتمے کے بعد آبنائے کی سکیورٹی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اٹلی اور جرمنی جیسے ممالک نے کسی بھی بین الاقوامی کوشش کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری کو ضروری قرار دیا ہے جس سے عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ فوجی حکام اگلے ہفتے اس معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

فرانسیسی حکام بشمول صدر عمانویل میکروں نے تجویز دی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد فرانسیسی جنگی جہاز تجارتی جہازوں کی حفاظت میں مدد کر سکتے ہیں۔ امریکہ نے یورپ اور جاپان جیسے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے جہازوں کی نگرانی اور حفاظت کریں۔ اس میں درپیش چیلنج ان اخراجات کی زیادتی اور فضائی دفاعی نظام ہے جو شاید ڈرونز جیسے حملوں کو روکنے کے لیے کافی نہ ہوں۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے امریکی بحری طاقت کے مقابلے میں محدود تعداد میں یورپی بحری جہازوں کی افادیت پر سوال اٹھایا ہے۔جرمن اور بلجیم کے حکام نے جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی صفائی کے لیے مائن سویپرز (کاسحات الغام) بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم مغربی رہنماو¿ں کو یقین نہیں ہے کہ آیا ایران نے واقعی آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ کچھ ایرانی جہاز اب بھی وہاں سے گزر رہے ہیں۔اس منصوبے میں امریکہ کے تعاون سے جہازوں پر کسی بھی ایرانی فضائی حملے کو روکنے کے لیے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ لیکن یہ آپشن مہنگا ہے اور اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں، کیونکہ ایران تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے بھی جہازوں پر حملہ کر سکتا ہے۔ محض چند ایسی کوششیں ہی انشورنس کمپنیوں اور جہازوں کے مالکان کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔

اس حکمت عملی میں ایران پر سفارتی اور معاشی دباو¿ کا استعمال شامل ہے تاکہ مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے اور اس مقصد کے لیے مختلف عسکری ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔ جرمن وزیر خارجہ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ دشمنی ختم کرنے کے لیے ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ تاہم یہ آپشن بھی مہنگا ہے اور اس کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ اب تک مذاکرات لڑائی روکنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن یہ یورپی ممالک کے لیے بہترین آپشن ہو سکتا ہے۔ایرانی حکام نے اس ہفتے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جنگ کے بعد بھی آبنائے میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا جاری رکھیں گے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کھلی آبی گزرگاہ ہونے کے باوجود وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

اس ناکہ بندی کا برقرار رہنا عالمی معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ کئی ممالک ایندھن اور کھاد کی ترسیل کے لیے اسی آبنائے پر انحصار کرتے ہیں۔ یورپ میں تیل، گیس اور کھاد کی بلند قیمتوں نے افراط زر اور معاشی ترقی میں کمی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ برلن میں اورورا انرجی ریسرچ کے ڈائریکٹر ہانس کوینگ کا کہنا ہے کہ اب سب سے بڑا خطرہ جمود آمیز افراط زر ہے، کیونکہ بلند قیمتیں اس سال متوقع محدود معاشی ترقی کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande