
امراوتی یونیورسٹی سے ‘تے پناس دن’ ناول خارج، بی اے مراٹھی نصاب میں تبدیلی پر تنازع امراوتی، 5 اپریل (ہ س)۔ سنت گاڈگے بابا امراوتی یونیورسٹی کے مراٹھی شعبے کے نصاب سے مصنف پون بھگت کا ناول ‘تے پناس دن’ ( وہ پچاس دن ) نکالے جانے کے بعد تعلیمی حلقوں میں نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ ناول بی اے مراٹھی دوسرے سال کے نصاب میں شامل تھا، تاہم اس پر بی جے پی حکومت پر تنقید کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا جس کے بعد اسے نصاب سے ہٹا دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد تعلیمی میدان میں شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ذرائع کے مطابق کورونا دور کے واقعات پر مبنی اس ناول کے بعض حصوں کو حکمراں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پرتنقیدی قراردیا گیا تھا، جس پر 9 دسمبر کو ودیا پریشد کی میٹنگ میں اعتراضات اٹھائے گئے۔ بعد ازاں وائس چانسلر ڈاکٹر ملند بارہاتے نے معاملہ اسٹڈی بورڈ کے حوالے کیا۔ مراٹھی شعبے کی سربراہ ڈاکٹر مونا چیموٹے کے مطابق، دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ناول کو برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی تھی۔تاہم 2 اپریل کو ودیا پریشد کی میٹنگ میں ایک بار پھر اس ناول پر اعتراض کیا گیا اوراتفاق رائے نہ ہونے پر ووٹنگ کروائی گئی جس میں 23 کے مقابلے میں 8 ووٹوں سے ناول کو نصاب سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون رکن نے تین صفحات پر مشتمل تحریری اعتراض جمع کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ناول میں مودی حکومت کے کورونا لاک ڈاؤن فیصلوں پر تنقید اور غلط تصویر پیش کی گئی ہے، جبکہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی جانب سے بھی اس کے خلاف اعتراضات پیش کیے گئے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اب اس ناول کی جگہ مصنف ادھو شیلکے کا ناول ‘ڈھگ’ بی اے حصہ دوم کے مراٹھی نصاب میں گرمیوں کے 2026 امتحانات سے شامل کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے