
نئی دہلی، 5 اپریل ( ہ س): الیکشن کمیشن نے آئندہ اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات کے پیشِ نظر نافذ ماڈل ضابطۂ اخلاق کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اب تک 651.51 کروڑ روپے مالیت کی نقدی اور غیر قانونی مواد ضبط کیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ یہ کارروائی منصفانہ، شفاف اور آزاد انتخابات کو یقینی بنانے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں انتخابی تیاریوں کے درمیان ضابطۂ اخلاق کے مؤثر نفاذ کے لیے وسیع نگرانی کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 5,173 سے زیادہ فلائنگ اسکواڈ اور 5,200 سے زیادہ اسٹیٹک سرویلنس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں مسلسل جانچ، تلاشی اور ناکہ بندی مہم چلا رہی ہیں، تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں پر فوری قابو پایا جا سکے۔
کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ الیکٹرانک سیژر مینجمنٹ سسٹم (ای ایس ایم ایس) کے ذریعے 26 فروری سے اب تک بڑی مقدار میں غیر قانونی اشیاء کی ضبطی درج کی گئی ہے۔ اس میں 53.2 کروڑ روپے نقد، 79.3 کروڑ روپے کی شراب، 230 کروڑ روپے کے منشیات، 58 کروڑ روپے کی قیمتی دھاتیں اور 231.01 کروڑ روپے کے دیگر مفت تحائف شامل ہیں۔
ریاست وار اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ ضبطی مغربی بنگال میں 319 کروڑ روپے کی ہوئی ہے۔ اس کے بعد تمل ناڈو میں 170 کروڑ روپے، آسام میں 97 کروڑ روپے، کیرالہ میں 58 کروڑ روپے اور پڈوچیری میں 7 کروڑ روپے کی ضبطی درج کی گئی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ عام شہریوں کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو، اس کے لیے ضلع سطح پر شکایت کے ازالے کی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی لوگوں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ‘سی-ویجل’ ایپ کے ذریعے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت درج کرائیں، تاکہ فوری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد