
ناسک ، 05 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اعلان کیا ہے کہ ناسک عصمت دری معاملے کے مالی پہلوؤں کی جانچ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) بھی کرے گی جبکہ اس کیس میں پہلے ہی ایس آئی ٹی تحقیقات جاری ہے۔انہوں نے ناسک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اشوک کھرات کیس میں اب تک 12 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور اس معاملے کی مکمل جانچ کی جائے گی، جس میں ملزم کے تمام مالی لین دین کی چھان بین بھی شامل ہوگی۔فڑنویس نے کہا کہ ای ڈی نے اس کیس سے متعلق معلومات حاصل کر لی ہیں اور اب وہ اس کے مالی پہلوؤں کی تفتیش کرے گی، تاہم ایس آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں اور اس کی تفصیلات روزانہ ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔وزیر اعلیٰ نے سماجی کارکن انجلی دامانیا کی جانب سے جاری کیے گئے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو سی ڈی آر حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہوتا اور یہ صرف تفتیشی ایجنسیوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے یہ معلوم کیا جائے گا کہ یہ سی ڈی آر کیسے اور کہاں سے سامنے آیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور سی ڈی آر لیک ہونے کے پہلو کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔واضح رہے کہ سماجی کارکن انجلی دامانیا نے ایک سی ڈی آر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بعض سیاسی رہنماؤں نے ملزم اشوک کھرات سے رابطہ کیا تھا، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سی ڈی آر کی کاپی وزیر اعلیٰ، ریاستی پولیس سربراہ اور ایس آئی ٹی کو بھی بھیجی گئی تھی۔اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا تھا، جہاں شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ سی ڈی آر ممکنہ طور پر وزیر اعلیٰ کے دفتر سے لیک ہوا ہے، جس کے بعد اس کی جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے