
حیدرآباد ، 5 اپریل (ہ س)۔ بی آرایس کے رکن اسمبلی و سابق وزیرٹی ہریش راؤ نے گجویل میں کے سی آرکے کیمپ آفس پر کانگریس کارکنوں کے حملے اورفرنیچر کو نقصان پہنچانے کی سخت مذ مت کرتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قراردیا ہے۔ ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ وزیراعلی ریونت ریڈی کے حکم پرکانگریس کے غنڈوں نے یہ حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بگڑ چکی ہے اورعوامی منتخب نمائندوں کے دفاتر پرحملے معمول بنتے جارہے ہیں۔ کانگریس غنڈوں کا طرزعمل بہارکی غنڈہ گردی کی یاد تازہ کررہا ہے۔ اگرارکان اسمبلی کے کیمپ آفس محفوظ نہیں ہیں توعام عوام کا کیا حال ہوگا ؟ ہریش راؤ نے پولیس کے کردار پربھی سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس مشنری امن و امان برقراررکھنے کے بجائے کانگریس کی پرائیویٹ فورس میں تبدیل ہوگئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کی فوری شناخت کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کے نام پرایک طرف نئے قوانین کے نام پراپوزیشن کو دبایا جارہا ہے اور دوسری طرف کانگریس کارکنوں کوغنڈہ گردی کی کھلی چھوٹ دی جارہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے جاری رہیں تو عوام جمہوریت کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے۔ ہریش راؤ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی اوروزراء دیگرریاستوں میں انتخابی مہم چلارہے ہیں اور ریاست کے امورکونظراندازکیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی ایسے حملوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ہر سطح پر کانگریس کا مقابلہ جاری رکھے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق