مولانا محمد عبداللہ مغیثی کی وفات ملت اسلامیہ ہند کےلئے بہت بڑا سانحہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
نئی دہلی،05اپریل(ہ س)۔ مولانا محمد عبد اللہ مغیثی ملک کے اکابر علمائ میں تھے ، انہیں اپنے عہد کے جلیل القدر اہل علم حضرت مولانا فخر الدین مرادآبادی ، علامہ بلیاوی رحمہما اللہ جیسے اکابر اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل تھا، وہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فض
مولانا محمد عبداللہ مغیثی کی وفات ملت اسلامیہ ہند کےلئے بہت بڑا سانحہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ


نئی دہلی،05اپریل(ہ س)۔

مولانا محمد عبد اللہ مغیثی ملک کے اکابر علمائ میں تھے ، انہیں اپنے عہد کے جلیل القدر اہل علم حضرت مولانا فخر الدین مرادآبادی ، علامہ بلیاوی رحمہما اللہ جیسے اکابر اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل تھا، وہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاءمیں تھے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے ان کو بڑا تعلق تھا ، وہ بورڈ کے رکن تاسیسی اور رکن عاملہ تھے ، ان کو حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے ارادت کی نسبت حاصل تھی اور ان کے مجاز تھے ، مظاہر علوم وقف کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے ، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ ان پر بے حد اعتماد کرتے تھے ، وہ شروع سے آل انڈیا ملی کونسل میں شامل رہے ، اور حضرت قاضی صاحب کے دست راست بن کر خدمت انجام دی ، وہ تزکیہ و اصلاح کی نسبت سے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مقبول تھے ، ان کے مواعظ بہت مو¿ثر اور دل آویز ہوتے تھے ، جن کو سن کر بہت سے نوجوانوں کی زندگیاں بدل گئیں ، وہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ کے ذمہ دار اعلیٰ تھے ، اور ان کی قیادت میں اس ادارہ کو وسعت اور شہرت حاصل ہوئی ، ملک کے مختلف علاقوں اور خاص کر مغربی یوپی میں ان کو بڑی مقبولیت حاصل تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ، اور ان کے چھوڑے ہوئے کاموں کو جاری رکھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande