آل انڈیا ملی کونسل کے صدر مولانا محمد عبد اللہ مغیثی رحلت فرما گئے،خدماتِ دین و ملت کا درخشاں باب ختم
نئی دہلی 5 اپریل (ہ س)۔ آل انڈیا ملّی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری اخباری بیان میں کونسل کے معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے ملک کے جید عالمِ دین، ممتاز مذہبی و ملی رہنما، آل انڈیا ملی کونسل کے صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن عاملہ اور مفکر
آل انڈیا ملی کونسل کے صدر مولانا محمد عبد اللہ مغیثی رحلت فرما گئے،خدماتِ دین و ملت کا درخشاں باب ختم


نئی دہلی 5 اپریل (ہ س)۔ آل انڈیا ملّی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری اخباری بیان میں کونسل کے معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے ملک کے جید عالمِ دین، ممتاز مذہبی و ملی رہنما، آل انڈیا ملی کونسل کے صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن عاملہ اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے خلیفہ اجل، پچھلی تقریبا پون صدی سے جامعہ گلزار حسینیہ، اجراڑہ میرٹھ کے مہتمم الحاج حکیم مولانا محمد عبد اللہ مغیثی? کے انتقال کی افسوسناک خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا کے انتقال سے ملک بھر کے دینی، علمی اور سماجی حلقے ایک عظیم نقصان سے دوچار ہو گئے ہیں۔ سلیمان خان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ مولانا کچھ عرصہ سے علیل تھے اور زیرِ علاج رہنے کے بعد آج اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ کی وفات ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔مولانا محمد عبد اللہ مغیثی ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ وہ ایک باصلاحیت معالج (حکیم) ہونے کے ساتھ ساتھ دینی و ملی امور میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے۔ آپ مختلف دینی و ملی اداروں سے وابستہ رہے اور ملت کے مسائل کے حل، اتحادِ امت کے فروغ اور تعلیمی بیداری کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ علم دین کے فروغ میں طویل عرصہ عظیم خدمات کے علاوہ ملت میں عصری علوم کے فروغ اور صلاحیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں آپ کی خدمات تاریخ کے صفحات پرسنہرے الفاظ میں لکھی جائیں گی، مولانا کی تقاریر اور رہنمائی نے ہزاروں افراد کی فکری و عملی زندگی پر مثبت اثر ڈالا۔ مولانا کی رحلت سے ملت اسلامیہ ہند ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہو گئی ہے، جس کا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔مولانا کی دینی و ملی خدمات، اخلاص، سادگی اور ملت کے لیے بے لوث جدوجہد کو تادیر فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا نے تقریبا 22 سالوں تک آل انڈیا ملّی کونسل کے صدر کی حیثیت سے کونسل کو پروان چڑھایا، اس سے قبل آپ کونسل کے سکریٹری جنرل بھی رہ چکے تھے۔ملی کونسل کے مرکزی عہدیداران (کارگزار صدر ،نائبین صدر،معاون جنرل سیکرٹریز ،خازن و معاون خازن،شعبہ جات کے سیکرٹریز)،ریاستی ذمہ داران ارکان، کارکنان کونسل سبھوں نے تعزیت پیش کی ہے۔

واضح ہو کہ نماز جنازہ اور تدفین اجرارہ میڑٹھ میں عمل آئی ، ملی کونسل کا وفد اس جنازے میں شرکت کرنے کے لئے دہلی سے ڈاکٹر پرویز میاں، صدر ملی کونسل دہلی، فیروز صدیقی ، محمد عالم ، ڈاکٹر کلیم عالم ، حاجی اقبال قریشی ، مفتی کفیل الرحمن ، قاری عبدالعزیز ، عرفان قریشی ، معراج الدین ، اور مرکزی دفتر سے وسیم احمد وغیرہ شامل ہوے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بھرپور مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل اور ملت اسلامیہ کو آپ کا بدل نصیب کرے۔ آمین

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande