علی گڑھ پبلک اسکول شکشا سمیتی کی وضاحت، 4.8 کروڑ روپے کے معاملے پر فراڈ کی خبروں کو گمراہ کن قرار
علی گڑھ، 04 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ پبلک اسکول شکشا سمیتی (اے پی ایس ایس ایس) نے میڈیا اور سوشل میڈیا میں چل رہی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے 4.8 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کے الزام کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ سمیتی کی جانب سے جاری پریس ریلیز
اے پی ایس


علی گڑھ، 04 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ پبلک اسکول شکشا سمیتی (اے پی ایس ایس ایس) نے میڈیا اور سوشل میڈیا میں چل رہی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے 4.8 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کے الزام کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ سمیتی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم کسی فراڈ یا خردبرد کا معاملہ نہیں بلکہ سمیتی کے ہی دو بینک اکاؤنٹس کے درمیان ایک معمول کی اندرونی منتقلی تھی اور رقم کبھی بھی ادارے کے کنٹرول سے باہر نہیں گئی۔

وضاحت کی گئی ہے کہ اس منتقلی میں کچھ طریقہ کار کی بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں، جس پر سیکریٹری پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اکتوبر 2025 میں کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد متعلقہ اکاؤنٹنٹ کو معطل کیا گیا اور بعد میں اس نے استعفیٰ دے دیا۔ اس طرح معاملہ ادارے کے اندر ہی قواعد کے مطابق حل کر لیا گیا تھا۔

سمیتی نے 2017 میں اپنی تشکیل کے حوالے سے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اس کی مکمل معلومات تھیں اور اس وقت کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیرالدین شاہ نہ صرف اس سے واقف تھے بلکہ وہ سمیتی کے پہلے صدر بھی تھے۔ اس لیے یہ کہنا کہ سمیتی یونیورسٹی کی معلومات کے بغیر بنی، حقائق کے خلاف ہے۔زمین کی ملکیت کے معاملے پر سمیتی نے کہا کہ جس زمین پر علی گڑھ پبلک اسکول قائم ہے وہ وقف کی زمین ہے اور اے ایم یو اس کی مالک نہیں بلکہ متولی ہے، جو وقف کی جانب سے کرایہ وصول کرتی ہے۔ کرایہ وقتاً فوقتاً بڑھایا گیا اور سمیتی کی جانب سے باقاعدگی سے ادا کیا جاتا رہا ہے۔ موجوہ وقت میں یہ رقم 60 ہزار روپیہ ہے ماہانہ ہے۔

پریس ریلیز میں پروفیسر ذکیہ صدیقی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک اعزازی طور پر اسکول کی خدمت کی اور ان کے دور میں اسکول کی مالی حالت، تعلیمی نتائج، انفراسٹرکچر اور انتظامی نظام میں نمایاں بہتری آئی۔ اسکول کا فنڈ ایک کروڑ سے بڑھ کر دس کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ ہائی اسکول کے نتائج 50–40 فیصد سے بڑھ کر 95–90 فیصد تک پہنچ گئے۔آخر میں سمیتی نے کہا کہ پروفیسر ذکیہ صدیقی تقریباً 90 برس کی عمر میں کسی عہدے یا اختیار کی خواہش نہیں رکھتیں بلکہ ان کی واحد ترجیح علی گڑھ پبلک اسکول کے مستقبل اور اس کے تعلیمی معیار کو محفوظ رکھنا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande