
اے ایم یو کی وضاحت پر سوالات، 4.8 کروڑ کے چیک گھوٹالے پر خاموشی کیوں: عاقب خورشیدعلی گڑھ، 04 اپریل (ہ س)۔
علی گڑھ پبلک اسکول پر قبضے کی مبینہ کوشش کے معاملے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کو غیر واضح قرار دیتے ہوئے طلبا لیڈر عاقب خورشید نے کئی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر 4.8 کروڑ روپے کے مبینہ جعلی دستخط والے چیک گھوٹالے پر اب تک کسی ٹھوس کارروائی کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ انھوں نے میڈیا میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس گھوٹالے میں کس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی؟ اور اس معاملے میں کون لوگ ملوث تھے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ زمین اے ایم یو کی ملکیت ہے اور وقف زمین پر قائم ہے، تو آج تک وہاں واضح بورڈ لگا کر اس کی ملکیت کیوں ظاہر نہیں کی گئی۔
مزید یہ کہ ایک کے بعد ایک زمینوں پر قبضے کے واقعات کے بعد اے ایم یو انتظامیہ نے اپنی جائیدادوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے، اس پر بھی خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ عاقب خورشید کا کہنا ہے کہ 4.8 کروڑ روپے کے چیک گھوٹالے کے تقریباً چھ ماہ بعد ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، تاہم اب تک اس کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔ اس چیک پر مبینہ طور پر رجسٹرار کے جعلی دستخط کیے گئے تھے، لیکن اس میں ملوث افراد کی نشاندہی نہیں کی گئی۔یہ بھی سوال ہے کہ آخر علی گڑھ پبلک اسکول پر قبضہ کرنے کی کوشش کس کی جانب سے کی جا رہی ہے، اور اے ایم یو کی زمینوں پر مسلسل ہو رہے قبضوں کے پیچھے کن اندرونی عناصر کا ہاتھ ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی اور اس کی قانونی ٹیم کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی واضح نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں سے ایک او ایس ڈی اس عہدے پر تعینات تھیں، جو دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے اس دوران یونیورسٹی سے کوئی معاوضہ نہیں لیا، لیکن اب اسکول پر قبضے کی کوشش میں ان کا نام سامنے آ رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر بروقت انتظامی تبدیلیاں کی جاتیں تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔مزید برآں، اگر جعلی چیک کے معاملے میں شروع ہی میں سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی، تو شاید آج اسکول پر قبضے کا دعویٰ سامنے نہ آتا۔قابل ذکر ہے کہ 2017 میں قائم ہونے والی ایک سوسائٹی (علی گڑھ پبلک اسکول شکشا سمیتی) اب 1977 سے قائم ادارے پر دعویٰ کر رہی ہے، جسے مبصرین غیر منطقی قرار دے رہے ہیں۔مجموعی طور پر اس پورے معاملے میں شفافیت کی کمی اور سوالات کے جوابات نہ ملنا، صورتحال کو مزید پیچیدہ اور مشکوک بنا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ