
ڈھاکہ، 29 اپریل (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے نیو مارکیٹ علاقے میں منگل کی رات مافیا سرغنہ کھونڈوکر نعیم احمد ٹیٹون (50) کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ڈھاکہ پولیس کو شبہ ہے کہ ٹیٹون کا قتل انڈر ورلڈ کے ارکان نے کیا ہے۔ ہزاری باغ کے جیگتولہ واقع سلطان گنج کے کے ایم فخر الدین کا بیٹا ٹیٹون ڈھاکہ میں دہشت کی علامت رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ٹیٹون ملک کے 23 خطرناک مجرموں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھا۔
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، نیو مارکیٹ تھانہ کے سب انسپکٹر محمد شہادت حسین نے بتایا کہ پولیس بیورو آف انویسٹی گیشن (پی آئی بی) نے فنگر پرنٹ اینالیسس کے ذریعے لاش کی شناخت کی۔ ڈھاکہ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر این این محمد نذر الاسلام نے بتایا کہ گولی لگنے کے بعد ٹیٹون کو ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2001 میں جاری کی گئی 23 خطرناک مجرموں کی فہرست میں ٹیٹون کا نام بھی شامل تھا۔ اس نے جیل میں طویل وقت گزارا۔ گزشتہ سال 13 اگست کو ضمانت پر رہا ہوا تھا۔ ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد سے وہ فرار تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں لگتا ہے کہ یہ قتل انڈر ورلڈ کے ارکان نے کیا ہوگا۔‘‘
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ واقعہ رات تقریباً 8 بجے نیو مارکیٹ کے پیچھے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شاہ نواز ہال کے سامنے پیش آیا۔ دو حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر آئے اور اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ زخمی ہو کر ٹیٹون سڑک پر گر گیا۔ مقامی لوگوں نے حملہ آوروں کا پیچھا بھی کیا پر وہ ہاتھ نہیں آ سکے۔ ٹیٹون کو میڈیکل کالج پہنچانے میں مدد کرنے والے محمد مصباح رحمان نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ٹوپی اور ماسک پہن رکھے تھے۔
ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں واقع پولیس چوکی کے انچارج انسپکٹر محمد فاروق نے بتایا کہ لاش پر گولیوں کے کئی نشانات تھے۔ ایک گولی سر کے آر پار ہو گئی تھی۔ اسسٹنٹ پولیس کمشنر (نیو مارکیٹ زون) محمد نسیم اے گلشن نے کہا کہ پولیس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔ آس پاس کے علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن