متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ، ہرمز کی بندش کابازار پر اثر محدود
ابوظہبی، 28 اپریل (ہ س)۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) سے نکلنے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے تیل کے عالمی بازار پر اس کے اثرات محدود ہوں گے۔ متحدہ عر
UAE-says-market-impact-of-OPEC-exit-will-be-limite


ابوظہبی، 28 اپریل (ہ س)۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) سے نکلنے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے تیل کے عالمی بازار پر اس کے اثرات محدود ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزروعی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ وقت اس فیصلے کے لیے موزوں ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود ہے، جس سے تمام ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اس وقت، بازار اور قیمتوں پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ سپلائی پہلے سے ہی محدود ہے۔“

وزیر نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر خودمختار قومی پالیسی کے تحت کیاگیا ہے اور اس کا کوئی سیاسی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی توانائی سے متعلق پالیسی سازی کے فیصلوں میں زیادہ لچک چاہتا ہے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق تیزی سے فیصلے لے سکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ فیصلہ سعودی عرب کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے تو انہوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر آزادانہ فیصلہ ہے۔

موجودہ حالات میں، جب علاقائی کشیدگی اور سپلائی کی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام توانائی کی منڈی میں ایک نئی اسٹریٹجک سمت کا اشارہ دیتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی کا فوری اثر محدود ہو سکتا ہے، لیکن یہ اقدام طویل مدت میں تیل کی عالمی منڈی اور پیداواری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande