شنگھائی ممالک سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک محاذ بنانے کی اپیل
۔آپریشن سندور نے دکھایا ہے کہ دہشت گردی کے گڑھ اب مناسب سزا سے نہیں بچ سکتے: راجناتھ نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ شنگھائی ممالک وزرائے دفاع کی میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے ایک متحد محاذ
SCO-Defence-Ministers-Meeting-Kyrgyzstan


۔آپریشن سندور نے دکھایا ہے کہ دہشت گردی کے گڑھ اب مناسب سزا سے نہیں بچ سکتے: راجناتھ

نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ شنگھائی ممالک وزرائے دفاع کی میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے ایک متحد محاذ بنانے کی اپیل کی ، جس کے تحت دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 'آپریشن سندور' نے ہندوستان کے اس عزم مصمم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مراکز اب مناسب سزا سے نہیں بچ سکتے۔ ایس سی او کو ان لوگوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ہچکچانا نہیں چاہیے ، جو دہشت گردوں کو بھڑکاتے ہیں، انہیں پناہ دیتے ہیں اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔

کرغزستان کے شہر بشکیک میں منگل کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی کی کوئی قومیت نہیں ہوتی، کوئی مذہب نہیں ہوتاہے، اس لیے ممالک کو اس خطرے کے خلاف ایک مضبوط اور اجتماعی موقف اپنانا چاہیے۔ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو یقینی بنانا شنگھائی تعاون تنظیم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اتفاق رائے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جہاں انتشار، مسابقت اور تنازعات کے بجائے بقائے باہمی، باہمی زندگی اور ہمدردی کو ترجیح دی جائے۔

راج ناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو ایس سی او کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ تنظیم نے اس خطرے کے خلاف مشترکہ لڑائی میں اس طرح کی کارروائیوں اور نظریات کی مذمت کی ہے۔ وزیر دفاع نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 'علاقائی انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے' کے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شنگھائی تعاون تنظیم بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے، کیونکہ آج دنیا کا نظریہ بکھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور ممالک تیزی سے اپنے اندرونی معاملات تک ہی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہمیں مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر چلنا چاہیے نہ کہ زبردستی یا طاقت کے استعمال پر ۔ ہمیں اس دور کو تشدد اور جنگ کا دور نہیں بننے دینا چاہیے بلکہ امن اور خوشحالی کا دور بنانا چاہیے۔ دفاع اور سلامتی کے ذمہ داروں کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھائی چارے اور ہم آہنگی کے اس جذبے کو برقرار رکھیں۔ طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں ہے کہ اسے غریبوں اور کمزوروں کے خلاف استعمال کیا جائے بلکہ اسے ان لوگوں کے مفاد میں استعمال کرنا ہے جو اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ قدیم ہندوستانی فلسفہ وسودھیو کٹمبکم اتحاد کے اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جو ذات پات اور مذہب کے تمام امتیاز سے بالاتر ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے ایس سی او کے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعمیری تعاون کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ میٹنگ کے دوران وزیر دفاع نے رکن ممالک کے ساتھ خطے کو متاثر کرنے والی سلامتی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے عالمی امن اور استحکام پر ان مسائل کے وسیع تر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande