
جموں, 28 اپریل (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی معراج ملک کو منگل کے روز کٹھوعہ جیل سے رہا کر دیا گیا، جب جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت ان کی حراست کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ڈوڈہ کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے گزشتہ سال 8 ستمبر کو جاری حراستی حکم کو منسوخ کرتے ہوئے حکام کو فوری رہائی کا حکم دیا۔ جسٹس محمد یوسف وانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حراست کا حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا اور یہ عدمِ اطلاقِ ذہن پر مبنی تھا۔
جیل حکام کے مطابق معراج ملک کو منگل کی صبح تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا۔ رہائی کے وقت جیل کے باہر بڑی تعداد میں حامی موجود تھے، جنہوں نے نعرے بازی کی، ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کیا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔
رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے معراج ملک نے کہا کہ وہ آئندہ بھی عوام کے مسائل اٹھاتے رہیں گے اور ان کی آواز بنیں گے۔ انہوں نے عدلیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ پیش کردہ مواد پی ایس اے کے تحت حراست کے جواز کے لیے کافی نہیں تھا، اور زیادہ تر مقدمات عام نوعیت کے تھے جنہیں لاء اینڈ آرڈر تک محدود قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ معراج ملک کو ستمبر میں مبینہ طور پر امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں پی ایس اے کے تحت حراست میں لے کر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے حراست کو غیر قانونی قرار دے کر رہائی کا حکم دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر