


آسام کے کازی رنگا سے ایم پی کے کانہا ٹائیگر ریزرو میں چار جنگلی بھینسوں کی کامیاب دوبارہ بحالی ہوئی
۔ مدھیہ پردیش میں جنگلی بھینسا نسل کی دوبارہ بحالی ایک تاریخی موقع : وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
بھوپال، 28 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ریاست میں جاری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اگلے باب کے طور پر منگل کو جنگلی بھینسا دوبارہ بحالی اسکیم کا آغاز کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کانہا ٹائیگر ریزرو میں کازی رنگا نیشنل پارک آسام سے لائے گئے جنگلی بھینسوں کی دوبارہ بحالی کے لیے انہیں ضلع بالا گھاٹ کے سوپکھار علاقے میں سافٹ ریلیز کیا۔ انہوں نے ریاست کی دھرتی پر نئے مہمانوں کی مبارک آمد پر ریاست کے عوام کو مبارکباد دی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آغاز کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ریاست کے لیے آج کا دن تاریخی ہے۔ تقریباً 100 سال کے بعد ریاست کی دھرتی پر جنگلی بھینسوں کی باز آبادکاری اور دوبارہ بحالی کا کام ہو رہا ہے۔ یہ مدھیہ پردیش کے جنگلی حیات اور جنگلاتی ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک حیرت انگیز موقع ہے۔ جنگلی بھینسوں کی باز آبادکاری سے گھاس کے میدانوں کے تحفظ اور ایکو سسٹم کو مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ریاستی حکومت ناپید ہونے والی نسلوں کے جنگلی جانوروں کو مدھیہ پردیش میں واپس لے کر آ رہی ہے۔ اس سے جنگل، جنگلی جانوروں سے مالامال ہوگا اور مقامی سطح پر سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔ جنگلی بھینسوں کی منتقلی سے آسام کے ساتھ مدھیہ پردیش کا ایک نیا رشتہ قائم ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دورہ آسام کے دوران ان کی آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما کے ساتھ جنگلی بھینسوں اور گینڈوں کی باز آبادکاری کے حوالے سے بامعنی گفتگو ہوئی تھی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ ضلع بالا گھاٹ کے جنگل میں چھوڑے گئے جنگلی بھینسوں میں تین مادہ اور ایک نر شامل ہے۔ تمام جنگلی بھینسے نوجوان ہیں اور صحت مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش آج ٹائیگر اور چیتا اسٹیٹ ہے، مدھیہ پردیش میں مگرمچھ، گھڑیال اور بھیڑیے بھی کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ مدھیہ پردیش اب ’’ولچر اسٹیٹ‘‘ یعنی گدھ اسٹیٹ بھی بنا ہے۔ مدھیہ پردیش کی دھرتی ہر طرح کے جنگلی جانوروں سے مالامال ہے۔ کئی سو سال پہلے ناپید ہونے والے جانوروں کی دوبارہ بحالی سے ریاست کے زرخیز جنگلات میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔ مدھیہ پردیش جنگلی حیات کے تحفظ میں ملک میں مثال پیش کر رہا ہے۔ ہماری یہ کوشش آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت ریاست میں بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی کاموں کو رفتار دینے کے ساتھ ہی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مکمل دیانتداری کے ساتھ فیصلے لے رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے دستِ مبارک سے سال 2022 میں چیتوں کی باز آبادکاری ہوئی۔ آج کونو سینکچری کے بعد گاندھی ساگر سینکچری میں بھی چیتے دوڑ لگا رہے ہیں۔ ساگر کے پاس نوراد یہی سینکچری میں بھی چیتوں کو بسانے کی پوری تیاری ہے۔ یہ تمام کام ریاست کے لیے ورثہ ہوں گے۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ بھارتی پاردھی، بھگت سنگھ نیتام سمیت محکمہ جنگلات کے افسران و اہلکار اور مقامی انتظامیہ کے افسران موجود رہے۔
بین ریاستی تعاون کی اس اہم مہم کے پہلے مرحلے میں 19 مارچ سے 10 اپریل 2026 کے درمیان، کازی رنگا کے وسطی اور مشرقی علاقوں سے 7 کم عمر بھینسوں کو لیا گیا۔ 25 اپریل 2026 کو 4 جنگلی بھینسوں نے کازی رنگا سے کانہا ٹائیگر ریزرو تک اپنا 2000 کلومیٹر کا سفر مکمل کیا۔ ان کی منتقلی کازی رنگا اور کانہا، دونوں جگہوں کے سینئر افسران اور تجربہ کار ویٹرنری ڈاکٹروں کی نگرانی میں کی گئی ہے۔ آج انہیں سوپکھار، کانہا ٹائیگر ریزرو میں واقع باڑے میں سافٹ ریلیز کیا جا رہا ہے۔
مقامی طور پر ناپید ہو چکی جنگلی بھینسے کی نسل کی دوبارہ گھر واپسی (کانہا) میں حیاتیاتی تنوع کو فروغ دے گی اور کانہا ٹائیگر ریزرو میں گھاس کے میدانوں والے ماحولیاتی نظام کے انتظام میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مدھیہ پردیش میں جنگلی بھینسوں کی آبادی تقریباً 100 سال پہلے ناپید ہو گئی تھی۔ فی الحال ان کی قدرتی آبادی بنیادی طور پر آسام میں محدود ہے، جبکہ چھتیس گڑھ میں ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔
وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (دہرادون) کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کانہا ٹائیگر ریزرو کو جنگلی بھینسوں کی دوبارہ بحالی کے لیے موزوں ترین پایا گیا ہے۔ یہاں کے وسیع گھاس کے میدان، پانی کے وافر ذرائع اور کم سے کم انسانی مداخلت اس نسل کے لیے سازگار حالات فراہم کرتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن