ایرانی وزیرخارجہ کا تہران کےلئے روس کی حمایت کا خیر مقدم
ماسکو،28اپریل(ہ س)۔روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں ماسکو کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔ گذشتہ روز روس کا دورہ کرنے والے عباس عراقچی ن
ایرانی وزیرخارجہ کا تہران کےلئے روس کی حمایت کا خیر مقدم


ماسکو،28اپریل(ہ س)۔روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں ماسکو کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔ گذشتہ روز روس کا دورہ کرنے والے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے تعلقات کی پائیداری کو سراہتے ہوئے 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی کو ثابت کر دیا ہے۔

اس ملاقات میں روسی غیر ملکی فوجی انٹیلی جنس (GRU) کے سربراہ ایگور کوستیوکوف کی موجودگی نے مبصرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ ایرانی تجزیہ نگار حمید رضا عزیزی کے مطابق یہ ملاقات محض جنگ بندی یا جوہری فائل تک محدود نہیں تھی، بلکہ امکان ہے کہ اس میں امریکی افواج کی نقل و حرکت اور جنگ کے دوبارہ آغاز کے خدشات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ روسی سلامتی کونسل نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی کو دوبارہ صف بندی اور ایران کے خلاف نئی کارروائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ماسکو نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور وہ ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کر چکا ہے۔ روس نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی افزودہ یورینیم کو اپنے ہاں ذخیرہ کرنے کی تجویز بھی دی، جسے امریکہ مسترد کر چکا ہے۔

دوسری جانب روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے کرغزستان میں ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک سے ملاقات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنگ کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ طلائی نیک نے بیلاروس کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے سیاسی تصفیے کی راہ پر واپسی اور مذاکراتی عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کے دوران صدر پوتین نے ایرانی عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد کی تعریف کی اور تہران کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ پوتین نے بتایا کہ انہیں گذشتہ ہفتے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے، جو کہ اپنے والد کے جانشین کے طور پر تقرری کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ پوتین نے عباس عراقچی کے ذریعے سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی بھیجا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کی حالیہ ایرانی تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس ایرانی منصوبے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی پیشکش کی گئی ہے، جس کے بعد متنازع جوہری پروگرام پر امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande