ایران کے وزیر خارجہ عراقچی 48 گھنٹے میں تیسری بار پاکستان پہنچے، روس بھی ثالثی کے لیے تیار
تہران/ماسکو، 28 اپریل (ہ س)۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے 27 اپریل کو ملاقات کرنے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر پاکستان پہنچے ہیں۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ آبنائے ہرمز پر چل رہے ٹکراو کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پوتن نے
سینٹ پیٹرز برگ میں 27 اپریل کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ فوٹو: تاس


تہران/ماسکو، 28 اپریل (ہ س)۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے 27 اپریل کو ملاقات کرنے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر پاکستان پہنچے ہیں۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ آبنائے ہرمز پر چل رہے ٹکراو کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پوتن نے کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں جلد از جلد امن کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگانے کو تیار ہے۔

ایران کے پریس ٹی وی اور روس کی خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کی رپورٹ کے مطابق، عراقچی کے پاکستان پہنچنے کے بعد امریکہ-ایران جنگ ختم ہونے کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ ایران-امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت کو آگے بڑھانے میں سرگرم ہے۔ عراقچی منگل کو دورہ روس کے بعد ایک بار پھر 48 گھنٹے میں تیسری بار پاکستان پہنچے ہیں۔

اس سے پہلے عراقچی اتوار کی رات پاکستان کے فوجی سربراہ منیر سے ملنے کے بعد اسلام آباد سے براہِ راست روس روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے کل سینٹ پیٹرز برگ میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماوں کے درمیان تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میٹنگ ہوئی۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ میٹنگ میں جنگ اور جارحیت سے منسلک معاملات پر گہرائی سے غور و خوض ہوا۔ انہوں نے ایران-روس تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیا اور بحران کے دوران روس کی حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ پوتن نے بھی مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرنے کی بات کہی اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی خطے میں استحکام لوٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس ایران کے مفادات کو آگے بڑھائے گا۔

پوتن نے عراقچی کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کو یقینی کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگانے کو تیار ہے۔ روسی رہنما نے کہا کہ ایرانی لوگ اپنی خود مختاری کے لیے ہمت اور بہادری کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران مشکلوں اور چیلنجوں کے اس دور سے نکل آئے گا اور وہاں امن قائم ہو گا۔ عراقچی نے اسلامی جمہوریہ کو دی گئی حمایت کے لیے پوتن اور روس کا شکریہ ادا کیا۔

روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وقت کے ساتھ یوکرین کے معاملے میں سفارتی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ لڑائی جھگڑا ایران کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ لڑائی آبنائے ہرمز کے ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس میں ایران کے حوالے سے بات چیت کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ امریکہ ابھی بھی یوکرین تنازعہ کو سلجھانے کی کوششوں میں شامل ہے، لیکن ان کے لیے ایران سے منسلک صورتحال کا حل نکالنا بڑی ترجیح ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande