ایران جوہری عدم توسیع کے معاہدے پر جائزہ جلاس کا نائب صدر بنا، مشتعل ہوا امریکہ
نیویارک، 28 اپریل (ہ س)۔ امریکہ نے ایران کو اقوام متحدہ کی چارٹر خصوصی کمیٹی اور جوہری عدم توسیع کے معاہدے پرجائزہ اجلاس کا نائب صدر منتخب کیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل ایران اقوام متحدہ کے سماجی ترقی کے کمیشن کے نائب صدر بھی منت
Iran-IN-NPT-RC-VS-USA


نیویارک، 28 اپریل (ہ س)۔ امریکہ نے ایران کو اقوام متحدہ کی چارٹر خصوصی کمیٹی اور جوہری عدم توسیع کے معاہدے پرجائزہ اجلاس کا نائب صدر منتخب کیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل ایران اقوام متحدہ کے سماجی ترقی کے کمیشن کے نائب صدر بھی منتخب ہو چکا ہے ۔ امریکہ کے تیور پیر کو اقوام متحدہ میںجوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے کیے گئے معاہدے پر نظرثانی شروع ہونے پر نظر آئے ۔اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے گرما گرم بحث ہوئی۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ،کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں امریکی معاون وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے کہا کہ اگرچہ ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے ارادوں اور طریقوں کے بارے میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اس جائزہ اجلاس کا استعمال جوہری عدم توسیع کے معاہدے کی سالمیت کاتحفظ کرنا ہے۔ کانفرنس میں ایران کو جوابدہ بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ہم نے ایران کو نائب صدر منتخب کر لیا ہے۔ امریکی رہنما نے کہا، ”یہ انتہائی شرمناک ہے اور اس کانفرنس کی ساکھ پر ایک داغ ہے۔“

ویانا میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر رضا نجفی نے امریکی الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا۔ انہوں نے جائزہ اجلاس کے نائب صدر کے عہدے کے لیے امریکی امیدواری کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہی واحد ایسا ملک ہے جس نے جوہری ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے امریکہ پرمعاہدے کی خلاف ورزی کرنے، اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر نے اور اسرائیل کی حمایت کر کے مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سمت ہو رہی پیش رفت میں رخنہ اندازی کا الزام عائد کیا۔

اس کانفرنس میں کل 34 نائب صدور ہیں۔ جوہری عدم توسیع کے معاہدے کے 191 رکن ممالک ہر پانچ سال بعد اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ معاہدہ 1970 میں عمل میں آیاتھا۔ نائب صدر کے عہدے کے لیے ایران کی امیدواری کو ناوابستہ تحریک کی حمایت حاصل تھی، جس میں 121 ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات نے نائب صدر کے عہدے کے لیے امریکی امیدوار کی حمایت کی۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ روس نے ایران کو نشانہ بنائے جانے پر اعتراض ظاہر کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande