ایف بی آئی نے ایلن کو عدالت میں پیش کیا، خاموش کھڑا رہا، حلف نامے میں ٹرمپ پر قتل کی کوشش کا الزام
واشنگٹن، 28 اپریل (ہ س)۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ہفتے کے روز واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاو¿س کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کے ملزم کول ایلن کو وفاقی عدالت میں پیش کیا۔ اس نے اپنے دفاع میں کوئی دلیل نہیں دی اور خا
FBI-produced-Allen-court


واشنگٹن، 28 اپریل (ہ س)۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ہفتے کے روز واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاو¿س کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کے ملزم کول ایلن کو وفاقی عدالت میں پیش کیا۔ اس نے اپنے دفاع میں کوئی دلیل نہیں دی اور خاموش کھڑا رہا۔ ایف بی آئی نے عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کیا ۔ اس میں ایلن کے خلاف سب سے بڑا الزام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کے طور پر عائد کیا گیاہے۔

سی بی ایس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ ایلن کوپیر کی دو پہر کو پہلی بار وفاقی عدالت میں پیش کیا۔ واشنگٹن ڈی سی کے امریکی اٹارنی جینین پیرو نے کہا کہ مشتبہ شخص کو تین الزامات کا سامنا ہے، لیکن اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ایف بی آئی کے اپنی بیان حلفی میں کہا ہے کہ ایلن نے گزشتہ ہفتے لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے واشنگٹن آیا اور وائٹ ہاو¿س کے نامہ نگاروں کے عشائیے سے ایک دن پہلے واشنگٹن ہلٹن میں ٹھہرا۔

سرکاری وکلاءنے عدالت کو بتایا کہ ایلن زبردستی ہوٹل کے بال روم کے اوپر والی منزل پر موجود سیکورٹی چوکی میں زبردستی داخل ہوا۔ اس کے پاس ایک شاٹ گن اور ہینڈ گن تھی۔ حلف نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا اس نے جو گولی چلائی وہ سیکرٹ سروس ایجنٹ کی بلٹ پروف جیکٹ کو لگی۔ سیکرٹ سروس کو اس تقریب کی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، جس میں 2500 صحافیوں، سرکاری افسران، ارکان پارلیمان اور مشہور شخصیات نے شرکت کی۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں سیکورٹی میں کوتاہی لگی ۔ سیکرٹ سروس نے پیر کو کہا کہ وہ مستقبل میں ہونے والے پروگراموں میں سیکورٹی میں اضافہ کرے گی۔

اس واقعے کے بعد، سینیٹ ریپبلکن کے ارکان پارلیمان کے ایک گروپ نے پیر کو ایک بل کی تجویز پیش کی۔ یہ بل وائٹ ہاو¿س سے منسلک بال روم بنانے کے لیے عوامی فنڈز کے استعمال کی اجازت دے گا۔ اس پروجیکٹ کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال نجی فنڈز سے بال روم بنانے پر کام شروع کیا تھا لیکن اس پروجیکٹ کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ٹرمپ اور کانگریس کے ریپبلکن ارکان نے استدلال کیا ہے کہ ہفتہ کو ہوئی گولہ باری سے سبق لیتے ہوئے وائٹ ہاو¿س کمپلیکس کے اندر ایک بڑی تقریب کی جگہ سیکورٹی کے لحاظ سے ضروری ہے۔ اس بل کی حمایت پنسلوانیا کے ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمین نے بھی کی ہے۔

جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایک ایسا بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو زیر زمین بال روم کی تعمیر کے لیے 400 ملین ڈالر کی منظوری فراہم کرے گا۔ اس بال روم میں سیکرٹ سروس اور دیگر سیکورٹی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔ اس پروجیکٹ کو کسٹم فیس سے پوراکیا جائے گا۔ گراہم کے علاوہ ،الباما کی کیٹی برٹ اور مسوری کے ایرک شمٹ بھی موجود تھے۔

سیکیورٹی کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہ کررہے سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے کہا،”ہمارے ایجنٹوں نے بہت اچھا کام کیا۔“ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیپیٹل ہل پر قانون سازوں سے ملاقات کے بعد کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا نامہ نگاروں کے عشائیے کو نیشنل اسپیشل سیکورٹی ایونٹ قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درجہ افتتاحی، اسٹیٹ آف دی یونین خطاب اور سپر باو¿ل جیسے بڑے پروگراموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عشائیہ کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عشائیہ کے اردگرد سیکورٹی کا گھیرا مضبوط تھا جس کی وجہ سے حملہ آور واشنگٹن ہلٹن ہوٹل سے باہر نہیں نکل سکا۔

اٹارنی جینین پیرو نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کچھ ہتھیاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کول ایلن مبینہ طور پر ان ہتھیاروں کے ساتھ واشنگٹن ہلٹن میں تھا۔ ایلن کے پاس سے ایک 12 گیج پمپ ایکشن موسبرگ شاٹ گن اور ایک .38 نیم خودکار پستول ملا ہے۔ کم از کم تین چاقو اور دیگر اشیاءبھی برآمد ہوئی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے مطابق ایلن نے شاٹ گن اگست 2025 میں اور پستول 2023 میں خریدی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande