
ناگپٹینم، 27 اپریل (ہ س)۔ تمل ناڈو کے ناگپٹینم ضلع میں پہلی بار ایسا معاملہ سامنے آیا ہے ،جب مقامی ماہی گیروں نے ان پر حملہ کرنے آئے ایک سری لنکا کے ایک بحری قزاق کو پکڑ کر اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ تمل ناڈو کے ماہی گیر برسوں سے سری لنکا کے قزاقوں کے حملوں، لوٹ مار اور ہراساں کیے جانے کا سامنا کرتے رہے ہیں لیکن بتایا جا رہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ماہی گیروں نے بحری قزاق کو پکڑا ہے۔
دراصل ،ناگپٹینم ضلع کے سیرودور گاوں کے رہائشی شکتی میئل (40)، ابھیمن (30)، بالاسبرامنین (30)، پلانیسامی (29) اور کنیا کماری ضلع کے اووری علاقے کے رہنے والے ابی (28)،25 اپریل کو دوپہر 12 بجے کے قریب ایک فائبر بوٹ سے مچھلی پکڑنے سمندر میں گئے تھے۔ 26 اپریل کو تقریباً 11 بجے یہ تمام ماہی گیر آرکاٹوتھورئی کے جنوب مشرق میں تقریباً 9 سمندری میل سمندر میں مچھلی پکڑ رہے تھے۔ اسی دوران تین مشکوک افراد تیز رفتار فائبر کشتی میں وہاں پہنچے اور ماہی گیروں کی جانب سے ڈالے گئے جال کو کاٹنے کی کوشش کی جس کے بعددونوں فریقین کے درمیان شدید جھڑپ ہو گئی ۔
جھڑپ کے دوران ،تمل ناڈو کے ماہی گیروں نے بہادری سے حملہ آوروں میں سے ایک کو پکڑ لیا جبکہ اس کے دو ساتھی اپنی کشتی سمیت موقع سے فرار ہو گئے۔ گرفتار شخص سے پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ تینوں وہاں لوٹ مار کی نیت سے آئے تھے۔
مزید پوچھ گچھ پر ملزم نے اپنا نام اینتھن (27) بتایا۔ اس نے بتایا کہ وہ سری لنکا کے کانگیسنتھورئی علاقے سے ہے۔ چونکہ وہ تمل بولتا تھا، اس لیے ماہی گیروں نے اس سے بات کی، تمام معلومات اکٹھی کیں اور اسے سیرودور میں فشنگ جیٹی پر لے آئے۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر کیلائیور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی، ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ملزم اور اس کے مفرور ساتھی اس سے قبل بھی ایسی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
سمندری تصادم کے دوران، اینتھن کو اس کے سر کے بائیں جانب، اس کی دائیں آنکھ کے اوپر، بھنویں کے قریب چوٹ لگی اور اس کی پیشانی پر سوجن آئی۔ اس کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے اسے علاج کے لیے ناگپٹینم گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا۔
مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے بحری قزاقوں کے اس طرح کے حملے کافی عرصے سے ہو رہے ہیں جس سے ان کی روزی روٹی اور حفاظت دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد