
نئی دہلی، 27 اپریل (ہ س)۔ آٹوموبائل شعبے کی کمپنی امبا آٹو سیلز اینڈ سروسز لمیٹڈ کا 65.12 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 29 اپریل تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشوکی کلوزنگ کے بعد 30 اپریل کوشیئروں کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص 4 مئی کوالاٹیڈ شیئر ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں کر یڈٹ کر دیئے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 5 مئی کو این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر درج کیے جا سکتے ہیں۔ دوپہر 3:25 بجے تک، اس آئی پی او کی 1 فیصد سبسکرپشن موصول ہو چکی تھی۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے پرائس بینڈ 130 روپے سے 135 روپے فی حصص طے کیا گیاہے،جب کہ لاٹ سائز 1,000 شیئرز کاہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کاروں کو دو لاٹ، یعنی 2,000 شیئروں کے لیے بولی لگانا ہوگا، جس کے لئے انہیں 270,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ اس آئی پی او کے تحت 10روپے کی فیس ویلیو والے کل 48.24 لاکھ شیئرجاری ہو رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں، اہل ادارہ جاتی (کیو آئی بی) کے لیے 9.62 فیصدحصہ مختص کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ریٹیل انوسٹرس کے لئے 37.97 فیصد حصہ اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی ) کے لیے 47.39 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میکر کے لئے 5.02 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔اس ایشو کے لیے کیپٹل اسکوائر ایڈوائزرس پرائیویٹ لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ مینیجر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بگ شیئر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈکو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔وہیں،ریکھوو سیکوریٹیز لمیٹڈ کمپنی کا مارکیٹ میکر ہے۔
امبا آٹو سیلز اینڈ سروسز لمیٹڈ کی مالی حالت کے بارے میں بات کریںتو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میںکئے دعوے کے مطابق ، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں، کمپنی کا خالص منافع 64 لاکھ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 2.89 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 7.78 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 12.11 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔
اس عرصے کے دوران، کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 میں، اس نے 113.05 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 211.33 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 242.46 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025-26 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی نے 203.79 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی تھی۔
اس دوران کمپنی پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا رہا۔ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر، کمپنی پر 27.13 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 37.21 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 55.22 کروڑ روپے ہو گیا۔ جب کہ اگر ہم گزشتہ مالی سال 2025-26 کے پہلے نو مہینوں یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک کی بات کریں تو اس عرصے کے دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ 57.42 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی نیٹ ورتھمیں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 میں، یہ 4.48 کروڑ پر تھی، جو 2023-24 میں بڑھ کر 7.37 کروڑ ہو گئی ۔ اسی طرح، 2024-25 میں، کمپنی کی نیٹ ورتھ 15.14 کروڑ تک پہنچ گئی۔ پچھلے مالی سال 2025-26 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، یہ 26.90 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ۔
کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس مدت میں کمپنی نے اس عرصے میں اس محاذ پر بھی پیش رفت کی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں یہ 3.73 کروڑ روپے کی سطح پر تھا جو 2023-24 میں بڑھ کر 6.62 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 2024-25 میں کمپنی کے ریزرو اور سرپلس 14.39 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔ پچھلے مالی سال 2025-26 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، یہ 13.40 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ ، ٹیکس،ڈپریشیئشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2022-23 میں4.45 کروڑ روپے تھاتھی، جو 2023-24 میں 8.41 کروڑ اور 2024-25 میں 17.48کروڑ روپے تک بڑھ گیا۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 کے پہلے نو مہینوں میں، اپریل سے 31 دسمبر، 2025 تک، یہ 22.34 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد