
لداخ, 27 اپریل (ہ س)۔ لیہہ اپیکس باڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے آئندہ دورۂ لداخ کے دوران براہِ راست اور فیصلہ کن سطح پر مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے 22 مئی کو مجوزہ سب کمیٹی اجلاس کو ناکافی قرار دیا ہے۔
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے اعلان کیا کہ وزارتِ داخلہ لداخ کے احتجاجی گروپوں کے نمائندوں کے ساتھ سیاسی بات چیت کے لیے 22 مئی کو سب کمیٹی اجلاس منعقد کرے گی۔ اس سے قبل آخری اجلاس فروری کے اوائل میں ہوا تھا۔
لیہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس سنہ 2021 سے مرکز کے ساتھ چار نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس میں لداخ کو ریاست کا درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات کا مطالبہ شامل ہے۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا کہ لداخ کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر التوا ہے اور اس کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی فیصلے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کمیٹی سطح کے مذاکرات میں فیصلہ سازی کا اختیار نہیں ہوتا، اس لیے تاخیر کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ چونکہ وزیر داخلہ خود 30 اپریل کو لداخ کا دورہ کر رہے ہیں، اس لیے وہ ایل اے بی اور کے ڈی اے کے ساتھ براہِ راست اجلاس کی صدارت کریں تاکہ بامعنی پیش رفت ممکن ہو سکے۔
ایل اے بی کے رہنما اشرف برچا نے کہا کہ تمام معاملات پر پہلے ہی تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے اور اب مزید بحث کے بجائے فیصلے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کا دورہ اس مقصد کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
وانگچک نے اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی واپسی اور متاثرین کو معاوضہ دینے جیسے اقدامات عوامی اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیئرنگ دورجے نے کہا کہ ایل اے بی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ارادوں کو واضح کرے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 30 اپریل کو دو روزہ دورے پر لیہہ پہنچیں گے، جہاں وہ یکم مئی کو بدھ پورنیما کے موقع پر مذہبی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر